Al-Risala May 2014

لامحدود صلاحیت

Al-Risala May 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - May 2014
  2. تواصی بالحق،تواصی بالصبر
  3. انسان کی تخلیق
  4. شخصیت کی تعمیر
  5. جنت کے باغوںمیں
  6. حکمت کا راز
  7. دعا کی قبولیت
  8. لامحدود صلاحیت
  9. خواہش پر کنٹرول
  10. جنت کی نرسری
  11. احیاءِ امت
  12. اسلام اور دورِ جدید
  13. شتمِ رسول کا مسئلہ
  14. نتیجے کا فقدان
  15. اختلافِ رائے
  16. موت کا پیغام

لامحدود صلاحیت

انسان کے اندر لامحدود صلاحیت ہے- ایک جدید تحقیق کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ انسان اگر اپنی آنکھوں کو بند کرکے سوچے تو اس کے اندر ایک نئی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے- اُس وقت وہ زیادہ بہتر طورپر معلومات کو جذب کرنے کے قابل ہوجاتا ہے:

One can absorb information better by closing one’s eyes.

یہ تحقیق اور اِس طرح کی دوسری تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ انسان کے اندر اللہ تعالی نے لامحدود صلاحیتیں رکھیں ہیں- قدیم زمانے میں معذور افراد کے لیے اندھا اور گونگا اور بہرا اور لولا اور لنگڑا جیسے الفاظ بولے جاتے تھے-

اِس طرح کے الفاظ سے یہ تاثر قائم ہوتا تھا کہ معذوری صرف معذوری ہے- ایسے لوگوں کے لیے ہر زبان میں ناکارہ یا اپاہج (disabled) جیسے الفاظ استعمال ہوتے ـتھے، مگر جدید تحقیقات کے بعد اب ایسے افراد کو مختلف طورپر اہل (differently-abled)شخص کہاجاتا ہے-

یہ فطرت کا نظام ہے- جب کوئی شخص اپنے کسی جسمانی عضو کو کھو دیتا ہے تو اس کے اندر نئ صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں- بظاہر جسمانی معذوری کے باوجود وہ بڑے بڑے کام انجام دیتا — ٹامس الوایڈیسن، لوئی بریل، ہیلن کلر، اسٹفن ہاکنگ، وغیرہ اِسی کی مثالیں ہیں:

Close eyes to absorb information

Want some important piece of information to sink in.? Closing your eyes might do the trick. Researchers from University of Edinburgh found that a few minutes of 'wakeful resting' allows information to be absorbed and it works best with verbal information rather than numbers. (The Times of India, New Delhi, July 25, 2012, p. 19)

فطرت کے اِس قانون پر غور کیجئے تو اِس سے ایک حدیثِ قدسی کی معنویت سمجھ میں آتی ہے- اِس کے الفاظ یہ ہیں: إذا ابتلیتُ عبدی بحبیبتیہ فصبر، عوضتہ منہما الجنة (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5653) یعنی جب میں اپنے ایک بندے کو ابتلا میں ڈالتا ہوں اور اس کی دونوں آنکھیں لے لیتا ہوں، پھر وہ صبر کرتا ہے، تو اِس صبر کے بدلے میں اس کو جنت دے دیتا ہوں-original + quote

اِس روایت میں ابتلا کا لفظ آیا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب تجربہ (experience) ہے، یعنی جب کسی بندے کو بینائی سے محرومی کا تجربہ ہوتا ہے، پھر وہ مایوسی کے بجائے صبر کرلیتا ہے-

صبر کا مطلب برداشت ہے، لیکن یہاں صبر کا مطلب یہ ہے کہ وہ بینائی سے محرومی کے اِس تجربے کو مثبت معنی (positive sense) میں لیتا ہے تو اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں- اِس کے اندر چھپے ہوئے امکانات انفولڈ(unfold) ہونے لگتے ہیں-

اِس قسم کا مثبت تجربہ اُس انسان کو پیش آتا ہے جس کا شعور بیدار ہو- فطرت کے قانون کے مطابق، اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار آنے لگتی ہیں- معذوری کے باوجود وہ بڑے بڑے کام انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے- اِس طرح کے افراد کی مثالیں قدیم تاریخ میں بھی موجود ہیں اور جدید تاریخ میں بھی -