← back to shukr · Al-Risala May 2011

سب کچھ سے بے کچھ کی طرف

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

سب کچھ سے بے کچھ کی طرف

آدمی جس دنیا میں رہتا ہے، وہاں بظاہر اس کو سب کچھ ملا ہوا ہے— موافق زمین، سورج کی روشنی، ہوا، آکسیجن، پانی، خوراک، خاندان، جماعت، اِدارے، حکومتی نظام، غرض زندگی کی مددگار وہ تمام چیزیں جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کو پیدا ہوتے ہی مل جاتی ہیں، اورپھر تمام عمر اس کو حاصل رہتی ہیں۔ اس بنا پر آدمی ان چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) طور پر لے لیتا ہے، وہ سوچ نہیں پاتا کہ یہ چیزیں کبھی اس سے چھن جائیں گی۔ لیکن ہر آدمی کے لیے مقدر ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد ا س پر موت آئے، اور تمام چیزیں اچانک اس سے چھن جائیں، آدمی اب بھی وہی ہو جو کہ موت سے پہلے تھا، لیکن زندگی کے تمام اسباب مکمل طور پر اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں، سب کچھ رکھنے والا آدمی، ایک لمحہ میں، بے کچھ ہو کر رہ جائے۔ یہ ایک ہونے والا واقعہ ہے، جو لازماً ہر ایک کے سامنے یقینی طور پر آئے گا، عورت کے ساتھ بھی اور مرد کے ساتھ بھی۔ یہی وہ چیز ہے جس پر سوچنے والے سب سے زیادہ سوچیں، یہی وہ چیز ہے جس کو تمام عورت اور مرد اپنا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنائیں، یہی وہ چیز ہے جس کے تصور کو لے کر آدمی شام کو سوئے اور صبح کو جاگے۔آدمی کے لئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیسے ایسا ہو کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں دوبارہ وہ سب کچھ پالے جو موت سے پہلے کی زندگی میں اس کو ملا ہوا تھا۔ یہی ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اسی مسئلہ کو حل کرنے میں انسان کی کامیابی ہے، اور اسی مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہنے کا نام، ناکامیابی ہے۔ انسان کا سفر بظاہر سب کچھ سے بے کچھ کی طرف ہورہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دوبارہ کس طرح یہ ممکن ہو کہ آدمی کا سفر بے کچھ سے سب کچھ کی طرف ہوجائے۔ اس کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی خالق کے تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ یہ تخلیق کا منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی موت سے پہلے کی زندگی میں خدا کے راستے پر چلے، وہ اپنے آپ کو خدا کا مطلوب بندہ بنائے— خود رخی زندگی آدمی کو ابدی تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور خدا رخی زندگی اس کو ابدی سعادت تک پہنچانے والی ہے۔unverified