Al-Risala May 2008

اعتراف یا سرکشی

Al-Risala May 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (17 chapters)
  1. الرسالہ - May 2008
  2. نماز اور تعمیر ِحیات
  3. قیامت کا زلزلہ
  4. یاد دِہانی کی موت
  5. معرفت یا معلومات
  6. ٹی وی کے ذریعہ
  7. اسلام کی سیاسی تعبیر
  8. مدر ٹریسا
  9. مواقع کی دنیا
  10. موت سے بے خبری کیوں
  11. کامیاب زندگی کا راز
  12. سوچ کا فرق
  13. مسئلے کا حل
  14. امتیازی صلاحیت
  15. اعتراف یا سرکشی
  16. سوال و جواب
  17. خبرنامہ اسلامی مرکز— 184

اعتراف یا سرکشی

حضرت علی بن ابی طالب (وفات: 661 ء) کا قول ہے: اتّقِ شرَّ من أحسنتَ إلیہ (اُس آدمی کے شر سے بچو، جس کے ساتھ تم نے احسان کیا ہے)۔ اِسی طرح مشہور عرب شاعر المتنبّی (وفات: 965 ء) کا ایک شعر یہ ہے— اگر تم شریف آدمی کے ساتھ احسان کرو تو تم اس کو اپنا مملوک بنا لوگے، اور اگر تم ذلیل آدمی کے ساتھ احسان کرو تو وہ تمھارے مقابلے میں سرکش بن جائے گا:other source

إذا أنت أکرمتَ الکریمَ مَلَکتَہ وإنْ أنت أکرمتَ اللَّئیمَ تمرّدا

ایسا کیو ںہوتا ہے۔ اِس کا سبب اعتراف کا معاملہ ہے۔ جب آپ ایک آدمی کے ساتھ کوئی سلوک کرے تو اِس کے بعد یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ آدمی اِس سلوک کو کس کے خانے میں ڈالے، وہ کس کو اُس کا کریڈٹ (credit) دے۔

ایسی صورتِ حال میں جب آدمی دینے والے کو اُس کا کریڈٹ دے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دینے والا اُس سے بڑا ہے اور وہ خود اُس سے چھوٹا ہے۔ یہ اپنے مقابلے میں دوسرے کی بڑائی کا اعتراف کرنا ہے۔ اِس قسم کا اعتراف آدمی کی انا (ego) سے ٹکراتا ہے۔ دوسرے کا اعتراف کرنا خود اپنی نفی کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ اِس قسم کا اعتراف کسی انسان کے لیے بلاشبہہ سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ اِس لیے آدمی کسی کے احسان کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

یہ بے اعترافی کسی حد پر نہیں رکتی، مزید آگے بڑھ کر وہ سرکشی بن جاتی ہے۔ آدمی اپنے محسن کا درجہ گھٹانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے، تاکہ اس کی بے اعترافی لوگوں کو ایک معقول اورجائز فعل نظر آئے۔ سرکشی کی یہ قسم دراصل اپنی بے اعترافی کے جواز کے لیے ہوتی ہے، خواہ شعوری طورپر، یا غیرشعوری طورپر۔ ایسا آدمی بھول جاتا ہے کہ اعتراف سب سے بڑی نیکی ہے اور بے اعترافی سب سے بڑی بُرائی۔ اعتراف شریف آدمی کی پہچان ہے، اور بے اعترافی ذلیل آدمی کی پہچان۔