Al-Risala May 2007

زحمت میں رحمت

Al-Risala May 2007 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (11 chapters)
  1. الرسالہ - May 2007
  2. روحانی شخصیت کی تعمیر
  3. حلال اورحرام کا تصور
  4. ایک تاریخی جائزہ
  5. بغیر ِہدایت
  6. صبرکا وقت عبادت کا وقت ہے
  7. زحمت میں رحمت
  8. دعاء کی طاقت
  9. اسلام کی اِشاعت
  10. ایک پیغام مشن کے ساتھیوں کے نام
  11. خبر نامہ اسلامی مرکز — 179

زحمت میں رحمت

دنیا میں ہمیشہ امیری اور غریبی کا فرق پایا جاتا رہا ہے۔ اس فرق کو کچھ لوگ معاشی اور سماجی برائی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، اور اگر خدا ہے تو وہ عادل نہیں۔ کیوں کہ یہ خدا کی عادلانہ صفت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ فرق رکھے کہ کچھ لوگ معاشی اعتبار سے اونچے ہوں اور کچھ لوگ معاشی اعتبارسے نیچے۔original + quote

یہ اعتراض درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ معاش میں اونچ نیچ کا فرق اچھے اور بُرے کی نسبت سے نہیں ہے۔ یہ دراصل اس لیے ہے کہ انسانی سماج میں مسابقت(competition) کا ماحول قائم ہو۔ مزید یہ کہ کم آمدنی والے لوگ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت یہ ہوتا ہے کہ غریب طبقے کے حالات اس کی تخلیقیت(creativity) کو بڑھاتے ہیں اور امیر طبقے کے حالات اُس کو غیر تخلیقی (uncreative) بناتے چلے جاتے ہیں۔

فطرت کے اسی قانون کی بنا پر بار بار اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیںکہ ایک شخص جو دولت مند گھرانے میںپیدا ہوا تھا وہ عیش وعشرت کا شکار ہوگیا۔ اُس کی صلاحیتیں ترقی نہ کرسکیں۔ آخر کار وہ ایک ناکام انسان کی حیثیت سے مرگیا۔ دوسری طرف یہ برعکس مثال بھی بار بار سامنے آئی ہے کہ ایک شخص غریب ماں باپ کے گھر پیدا ہوا۔ اُس کے حالات نے اُس کو جدوجہد کے راستے پر لگایا۔ وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس نے غیر معمولی ترقی حاصل کرلی۔

اُس نے بیک وقت دو پہلوؤں سے ترقی کی۔ ایک طرف اُس کے مشکل حالات نے اُس کو زیادہ گہرے تجربات کرائے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء دوسروں سے زیادہ ہوا۔ وہ دوسروں سے زیادہ فہم اور بصیرت کا مالک بن گیا۔ اسی کے ساتھ اُس نے مادی اور معاشی اعتبار سے بھی غیر معمولی ترقی کی۔ اُس کو اپنے باپ کی طرف سے غریبی کی وراثت ملی تھی، مگر جب وہ مرا تو اُس نے اپنی اولاد کے لیے دولت اور جائداد کی بہت بڑی وراثت چھوڑی۔