Al-Risala May 2005

غیر فطری محبت

Al-Risala May 2005 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - May 2005
  2. بامقصد زندگی
  3. مستقبل کا انتظار
  4. رزق خدا کے ہاتھ میں
  5. ایک کے بدلہ میں دَس
  6. بچاؤ کی تدبیر
  7. آسان تدبیر
  8. لڑے بغیر مقابلہ
  9. محنت کا کرشمہ
  10. انسان کا کم تر اندازہ نہ کیجئے
  11. صلاحیت کا استعمال
  12. کام کی تلاش
  13. غیر فطری محبت
  14. مستقبل پر نظر
  15. تیسرا انتخاب
  16. کامیاب ازدواجی زندگی
  17. گھریلو جھگڑے
  18. تعلیم کی طرف
  19. یہ بدعت ہے
  20. ناشکری کا فتنہ
  21. یہ نمبر موجود نہیں
  22. ایک ملاقات
  23. ٹیلی فون سے خطاب
  24. ایک خط
  25. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۶۹

غیر فطری محبت

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ کو میں سورت (گجرات) میںتھا۔ وہاں میں ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ایک مقامی مسلمان مجھ سے ملنے کے لیے ہوٹل میںآئے۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔ وہ اس بچہ کو اپنی گود میں لئے ہوئے تھے۔ وہ بچہ کو کبھی کندھے پر بٹھاتے اور کبھی گود میں لیتے۔ وہ میرے کمرے میں آکر بیٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ آپ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے خوشی کے لہجہ میں کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کے دشمن ہیں۔ اس کے ساتھ آپ کا پیار اس کے لیے دشمنی کے ہم معنٰی ہے۔ اس غیر متوقع تبصرہ کو سن کر وہ گھبرا گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسے۔ میںنے کہا کہ آپ ہمیشہ اپنے صاحبزادے کو گود میں نہیں رکھ سکتے۔ آخر کار اس کو ایک ایسی دنیا میں جانا ہے جہاں کوئی اس کو گود میں لینے والا نہ ہوگا۔ بچہ کے لیے سچی محبت یہ ہے کہ آپ اس کو مستقبل کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کریں، نہ یہ کہ اس کو اس سے بے خبر رکھ کر ایک ایسی دنیا میں جینے والا بنائیں جو آپ کی گود کے باہر کہیں اپنا وجود نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ابھی چھوٹا بچہ ہے۔ میںنے کہا کہ آپ کی یہ سوچ فطرت کے خلاف ہے۔unverified

اس کے بعد انہوں نے اپنے بچے کو گود سے اتار دیا۔ اتارتے ہی وہ بچہ زمین پر دوڑنے لگا۔ اس کا حال اس چڑیا جیسا ہوگیا جو پنجرے میں بند ہو اور پنجرہ سے آزاد ہوتے ہی فضا میں اڑنے لگے۔

فطرت کے نظام کے مطابق، بچہ ماں باپ کی گود میں رہنے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ بچہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے کھلے میدان میںدوڑے۔ وہ زندگی کی جد وجہد میں داخل ہو۔ وہ ہر قسم کے تجربات سے گزرتے ہوئے اپنے مستقبل کی تعمیر کرے۔ وہ موافق او رمخالف حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرے۔ ایسی حالت میں بچے کو ماں باپ کی شفقتوں کا عادی بنانا فطرت کی اسکیم کے خلاف ہے۔ وہ فطرت کے نظام سے لڑنا ہے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اس فطری حقیقت کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی اولاد کو بنائیں۔