Al-Risala March 2019

والدین کی ذمہ داری

Al-Risala March 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - March 2019
  2. بہتر گھر، بہتر سماج
  3. اولاد کی حیثیت
  4. والدین کی ذمہ داری
  5. ایک اچھی مثال
  6. بچوں کی تربیت
  7. گھر کا ماحول
  8. تربیت کا طریقہ
  9. زیادہ بڑی گود
  10. گھر کا ماحول
  11. خاندان کی اہمیت
  12. تربیت گاہ
  13. حسنِ اخلاق کی وراثت
  14. باپ کا تحفہ
  15. فیملی کلچر کا نقصان
  16. خدا کا اعتراف نہیں
  17. ایک عام کمزوری
  18. کامیابی کا طریقہ
  19. رزق کا معاملہ
  20. گھرایک تربیت گاہ
  21. بچوں کی اصلاح
  22. بچوں کا بگاڑ
  23. معکوس تربیت
  24. فرضی محبت
  25. خیر خواہی یا بد خواہی
  26. چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ
  27. اولاد پرستی کا فتنہ
  28. خوش فکری، یا حقیقت پسندی
  29. بچوں کا دکھ جھیل رہے ہیں
  30. اہل وعیال کا فتنہ
  31. پرچۂ امتحان
  32. ہاتھی کی دم میں پتنگ
  33. ہر گھر بگاڑ کا کارخانہ
  34. بچوں کا قبرستان
  35. نظر کی خریداری
  36. پیمپرنگ کا نقصان
  37. محرومی ایک نعمت
  38. تربیت اولاد
  39. پہلا اسکول

والدین کی ذمہ داری

اولاد کی تربیت کے بارے میں انس بن مالک کے حوالے سے ایک حدیثِ رسول ان الفاظِ میں آئی ہے:أَکْرِمُوا أَوْلَادَکُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَہُمْ(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3671)یعنی اپنے اولاد کے ساتھ بہتر سلوک کرو، اور ان کو اچھا ادب سکھاؤ۔original + quote

اس حدیث میں ادبِ حسن کا مطلب زندگی کا بہتر طریقہ ہے۔ یعنی یہ سکھانا کہ بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وہ کامیاب ہوں، وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا بوجھ (liability)نہ بنیں، بلکہ وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا سرمایہ (asset)بن جائیں۔original + quote

والدین اپنے بچوں کو اگر لاڈ پیار (pampering) کریں تو انھوں نے بچوں کو سب سے بُرا تحفہ دیا۔ اور اگر والدین اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کا کامیاب طریقہ بتائیں، اور اس کے لیے ان کو تیار کریں تو انھوں نے اپنے بچوں کو بہترین تحفہ دیا۔ مثلاً بچوں میں یہ مزاج بنانا کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے سے بچیں۔ وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی تلاش کریں، وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کو درست کریں ، اور اس طرح اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں۔ وہ دنیا میں تواضع (modesty) کے مزاج کےساتھ رہیں، نہ کہ فخر اور برتری کے مزاج کے ساتھ۔ زندگی میںان کااصول حیات یہ ہو کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں، نہ کہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے وقت اور اپنی توانائی کو صرف مفید کاموں میں لگائیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم غلطی کرو گے تو اس کی قیمت تم کو خود ادا کرنی ہوگی۔ کوئی دوسرا شخص نہیں جو تمھاری غلطی کی قیمت ادا کرے۔ کبھی دوسروں کی شکایت نہ کرو۔ دوسروں کی شکایت کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ ہمیشہ مثبت انداز سے سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ۔بری عادتوں سے اس طرح ڈرو، جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشش بنائیں، نہ کہ رائٹ(right) کانشش۔