Al-Risala march 2017

امیج بلڈنگ

Al-Risala march 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - march 2017
  2. اسلام کیا ہے
  3. انعامات خداوندی
  4. اول المسلمین
  5. ایمان کو سیکھنا
  6. اعتماد علی اللہ
  7. ختم نبوت
  8. ٹرین آف تھاٹ
  9. اسپریچول آؤٹ سورسنگ
  10. مصیبت کیوں
  11. راہ عمل
  12. صبر کی اہمیت
  13. دورِ جدید
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. دین میں تنگی نہیں
  16. اجتہاد کا معاملہ
  17. ملت کی اصلاح
  18. حالات کا اندازہ
  19. دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
  20. امیج بلڈنگ
  21. بڑھاپا آنے سے پہلے
  22. شادی کا صحیح طریقہ
  23. عزت نفس
  24. بے شکایت جینا
  25. انتہا پسندی
  26. صحیح طرز فکر
  27. کرائسس مینجمنٹ
  28. درست فیصلہ
  29. بہتر کا انتخاب
  30. سوال و جواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 249

امیج بلڈنگ

آج کل ہر پڑھا لکھا مسلمان ایک بات بولتا ہے— اس وقت اسلام کا سب سے بڑا کام امیج بلڈنگ ہے، یعنی بگڑی ہوئی تصویر کو درست کرنا۔ یہ کام بذات خود ایک اہم کام ہے۔ لیکن اسلام کی تصویر بگاڑنے والا کون ہے۔ اس سوال کا جواب ہر ایک یہ دے گا کہ مسلم دشمن طاقتیں اسلام کی تصویر کو بگاڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ اسلا م کے مخالفین کی سازش (conspiracy)کا نتیجہ ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان اس موضوع پر جب لکھتا یا بولتا ہے تو وہ ہمیشہ اسی قسم کی بات کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کہنے اور لکھنے والے لمبی مدت سے یہ بات بول رہے ہیں، اور لکھ رہے ہیں، لیکن ان کی ساری کوششیں بے نتیجہ ثابت ہورہی ہیں۔ اس قسم کی باتوں سے اسلام کی تصویر کو درست کرنے میں ایک فی صد بھی کامیابی نہیں ہوئی۔

اس ناکامی کا سبب خود مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ ہے۔ یہ لوگ مفروضہ اسلام دشمنوں کی مفروضہ دشمنانہ باتوں کا انکشاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جب کہ اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود مسلمان اسلام کے نام پر غلط کام کرتے ہیں۔ مثلا اپنی قومی لڑائی کو اسلامی جہاد کا نام دینا، وغیرہ۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں بگڑ گئی ۔ اس لیے اس معاملے میں اصلاحی کوشش کا اصل نشانہ مسلمانوں کو بنانا چاہیے ، نہ کہ مفروضہ اسلام دشمن طاقتوں کو۔

امیج بلڈنگ کا کام اگر دوسروں کے خلاف پروٹسٹ سے شروع کیا جائے تو وہ یقینا بے نتیجہ رہے گا۔ صحیح یہ ہے کہ امیج بلڈنگ کے کام کو خود مسلمانوں سے شروع کیا جائے۔ مثلاً لوگوں کو بتایا جائے کہ اسلام اور مسلمان دونوںکا معاملہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔مسلمانوں سے یہ کہا جائے کہ تم جہاد کے نام پر قومی لڑائی کو بند کرو۔ تم رسول اللہ کے خلاف گستاخی کے نام پر قتل کا فتویٰ دینااور احتجاج کرنا بند کرو، وغیرہ۔صحیح طریقہ مسئلہ کو حل کرتا ہے، اور غلط طریقہ مسئلہ میں اضافہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔