← back to shukr · Al-Risala march 2017

اسپریچول آؤٹ سورسنگ

Al-Risala march 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - march 2017
  2. اسلام کیا ہے
  3. انعامات خداوندی
  4. اول المسلمین
  5. ایمان کو سیکھنا
  6. اعتماد علی اللہ
  7. ختم نبوت
  8. ٹرین آف تھاٹ
  9. اسپریچول آؤٹ سورسنگ
  10. مصیبت کیوں
  11. راہ عمل
  12. صبر کی اہمیت
  13. دورِ جدید
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. دین میں تنگی نہیں
  16. اجتہاد کا معاملہ
  17. ملت کی اصلاح
  18. حالات کا اندازہ
  19. دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
  20. امیج بلڈنگ
  21. بڑھاپا آنے سے پہلے
  22. شادی کا صحیح طریقہ
  23. عزت نفس
  24. بے شکایت جینا
  25. انتہا پسندی
  26. صحیح طرز فکر
  27. کرائسس مینجمنٹ
  28. درست فیصلہ
  29. بہتر کا انتخاب
  30. سوال و جواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 249

اسپریچول آؤٹ سورسنگ

آؤٹ سورسنگ ایک جدید تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کمپنی دوسرے کمپنی کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرے:

Outsourcing means going “out” to find the “source” of what you need.

آؤٹ سورسنگ دراصل استثمار (utilization) کی جدید صورت ہے۔اس لفظ کا باقاعدہ استعمال 1989 میں مغرب میں صنعت و تجارت کے میدان میں شروع ہوا۔ قدیم زمانے میں استثمار کی ایک ہی صورت تھی، اور وہ تھی فوجی استثمار یا سیاسی استثمار۔ یعنی پہلے طاقت کے زور پر دوسروں کے اوپر قبضہ کرنا، اور پھر دوسروں کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔

لیکن موجودہ زمانے میں جدید وسائل کی دریافت نے آؤٹ سورسنگ کے تصور کو بدل دیا ہے۔ اب تنظیم (organization) نے یہ ممکن بنادیا ہے کہ فوجی یا سیاسی طاقت کا استعمال کیے بغیر پر امن منصوبہ بندی کے ذریعہ آؤٹ سورسنگ کا فائدہ بڑے پیمانے پر حاصل کیا جائے۔

موجودہ زمانے میں بڑی بڑی کمپنیاں اس طریقے کو وسیع پیمانے پر استعمال کررہی ہیں۔ لیکن ان کی آؤٹ سورسنگ مادی انٹرسٹ کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آؤٹ سورسنگ کا ایک اور میدان ہے، اور وہ ہے اسپریچول آؤٹ سورسنگ۔ یعنی دوسروں کے قائم کردہ وسائل کو اپنے روحانی اور ذہنی ارتقا کے لیے استعمال کرنا۔

مثلا آپ ہوائی جہاز کو فضا میں اڑتا ہوا دیکھتے ہیں تو آپ کو یہ آیت یاد آجاتی ہے : وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہُ (45:13) ۔یعنی اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔آپ اس واقعہ کو خالق کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ اور پھر ہوائی جہاز کے ذریعہ آپ تسخیر کی ایک مثال دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ رب العالمین کی قدرت کیسی عجیب ہے اس نے مادہ (matter) کو حکم دیا کہ وہ انسان کے حکم سے پرواز کرے۔ تو مادہ انسان کو لے کر فضا میں اڑ کر انسان کو تیز رفتاری کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا رہا ہے، وغیرہ۔original + quote

تجارتی آؤٹ سورسنگ کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس بہت سے ضروری وسائل موجود ہوں۔ ضروری مادی وسائل کے بغیر آپ کسی کے انفراسٹرکچر سے آؤٹ سورسنگ نہیں کرسکتے۔ مگر اسپریچول آؤٹ سورسنگ کے لیے کسی قسم کی کوئی شرط ضروری نہیں۔ اس کے لیے صرف ایک ہی چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے آپ کے اندر ارتقا یافتہ ذہن (developed mind) کا موجود ہونا۔

اگر آپ کے اندر ارتقا یافتہ ذہن موجود ہو تو آپ کسی قسم کے ظاہری اسباب کے بغیر ہر واقعہ سے اسپریچول آؤٹ سورسنگ کرسکتے ہیں۔ مادی آؤٹ سورسنگ کی ایک حد ہوتی ہے۔ لیکن اسپریچول آؤٹ سورسنگ کی کوئی حد نہیں۔ اسپریچول آؤٹ سورسنگ کا میدا ن پوری کائنات ہے۔ اسپریچول آؤٹ سورسنگ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یونیورسل آؤٹ سورسنگ کے ہم معنی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کمیونی کیشن (communication) کا زمانہ ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ موجودہ زمانےکا کمیونی کیشن دوسرے الفاظ میں آؤٹ سورسنگ کے لیے عالمی وسائل کے استعمال کو ممکن بناتا ہے۔ ابتدائی طور پر انسان اپنے سوچنے کی طاقت کو استعمال کرکے اسپریچول آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے آس پاس کے وسائل کو اسپریچول آؤٹ سورسنگ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) اس کو اس مقام تک پہنچاتا ہے کہ وہ ساری کائنات کو اپنے لیے اسپریچول آؤٹ سورسنگ کا ذریعہ بنا لے۔original + quote

اسپریچول آؤٹ سورسنگ کی کوئی حد نہیں۔ جہاز کی پرواز کی ایک حد ہوسکتی ہے، لیکن انسان کی ذہنی پرواز کی کوئی حد نہیں۔ اسپریچول آؤٹ سورسنگ میں وہ چیز بھی پوری طرح شامل ہے جس کو دعوتی آؤٹ سورسنگ کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ کے طریقے نے اس کو ممکن بنادیا ہے کہ دعوت کا کام کسی سیاسی طاقت کے بغیر عالمی سطح پر انجام دیا جائے۔