← back to shukr · Al-Risala March 2015

یقین کا سرچشمہ

Al-Risala March 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (36 chapters)
  1. الرسالہ - March 2015
  2. صدیق اسپرٹ
  3. اسلامی تربیت
  4. شیطان سے دوری
  5. تکفیر یا تبلیغ
  6. فقہی مسائل میں اختلاف
  7. تدبر کا میدان
  8. یقین کا سرچشمہ
  9. استثنا ایک ثبوت
  10. قرآن کتاب مہجور
  11. کوئی مشکل، مشکل نہیں
  12. وضو اور قرآن
  13. فلسفیانہ تلاش کی ناکامی
  14. مثبت سوچ، منفی سوچ
  15. قرآن کا ایک پہلو
  16. فطرت کا نظام
  17. عملِ مزید، جنتِ مزید
  18. تجدید ِ دین
  19. تکرار کا مسئلہ
  20. قبولِ قیادت کا فقدان
  21. خدا کی زبان
  22. انتقامی جنگ
  23. اسلام کا اقدام، دعوت
  24. دورِ جاہلیت یا دورِ اسلام
  25. ایک خطرناک صفت
  26. تخلیقیت کے دو درجے
  27. قرآن، سنت، اجتہاد
  28. اصلاح امت
  29. رحمت کا دروازہ
  30. زیادہ بڑی فتح
  31. آداب مجلس
  32. انسان کا مسئلہ
  33. دوآپشن کے درمیان
  34. مفید، بے مسئلہ
  35. کیلنڈر کی تاریخ
  36. خبر نامہ اسلامی مرکز— 232

یقین کا سرچشمہ

اسلام میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے- یہاں تک کہ صبر پر بے حساب انعام کا وعدہ کیاگیا ہے:اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا- اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیاہے کہ جنت ان کو ملے گی جنھوںنے دنیا کی زندگی میں صبر کیا (76:12) -original + quote

صبر کا ایک فائدہ وہ ہے جو انسان کو آخرت میں ملے گا- لیکن صبر کا فائدہ اسی موجودہ دنیا میں شروع ہوجاتاہے- صبر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آدمی مایوسی کی نفسیات سے بچ جاتا ہے- مایوسی کی نفسیات میں جینے والے انسان کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بے یقینی (uncertainty)کی نفسیات میں جینے لگتاہے- ایسا آدمی کبھی حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کا منصوبہ نہیں بنا سکتا- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی اپنی زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کرپاتا-

صبر کا معاملہ اس کے برعکس ہے- صبر آدمی کو اِس نفسیات سے بچا لیتاہے کہ وہ کھوئے ہوئے کو نہ بھلائے- ایسا آدمی کامل معنوں میں یقینیت (certainty) میں جینے لگتا ہے- وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے- اور اس کے نتیجہ میں بڑی کامیابی حاصل کرے-

یقین (conviction) انسان کی سب سے بڑی صفت ہے- کوئی بڑا کام وہی شخص کرسکتاہے جو یقین میں جیتاہو- قرآن میں صبرکو اتنی زیادہ اہمیت اسی لئے دی گئی ہے کہ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے یقینی کے اسباب کو نظر انداز کرکے صرف ان چیزوں پر فوکس کرے جو آدمی کے اندر یقین پیداکرنے والی ہیں- موجودہ دنیا میں ہر لمحہ ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو آدمی کے ذہن کو بھٹکا کربے یقینی کی طرف لے جاتے ہیں- صبر آدمی کو اس بھٹکاؤ سے بچاتا ہے- وہ آدمی کو ہر حال میں یقین پر قائم رکھتا ہے-