Al-Risala March 2011

حق کی تلاش

Al-Risala March 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - March 2011
  2. اللہ سے محبت
  3. جنت کا استحقاق
  4. ہدایت اورضلالت
  5. سب سے بڑی یقین دہانی
  6. گروہی ہدایت
  7. تدبر قرآن
  8. مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ
  9. قومی مذہب
  10. قرآن فاتحِ عالم
  11. جہاد کیا ہے
  12. ابنِ تیمیہ کا موقف
  13. احیاءِ اسلام
  14. مسلم تاریخ کے تین دور
  15. امتِ محمدی کی ذمے داری
  16. دعوت، دعا
  17. مطالباتی سیاست کا نقصان
  18. غیر ِ خدا میں جینا
  19. رزرویشن کے بغیر
  20. ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ
  21. اتباعِ یہود کا کیس
  22. حق کی تلاش
  23. افرادِ کار کی تیاری
  24. شتمِ رسول کا مسئلہ
  25. تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت
  26. اعتماد کی اہمیت
  27. کھونے میں پانا
  28. صحیح مشورہ، غلط مشورہ
  29. ایک عام کمزوری
  30. سوال وجواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 209

حق کی تلاش

امریکی صحافی الون ٹافلر (Alvin Toffler) کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اس کا نام یہ ہے — فیوچر شاک:Future Shockother source

یہ کتاب پہلی بار 1970 میں چھپی۔ اب تک اس کے 5 ملین سے زیادہ نسخے ساری دنیا میں فروخت ہوچکے ہیں، نیز دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے بھی شائع ہوچکے ہیں۔

الون ٹافلر نے اپنی کتاب میں ایک سیمنار (seminar)کا واقعہ لکھا ہے۔ اِس سیمنار میں کنارے کی سیٹ پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ جب سب لوگ بول چکے تو آخر میں وہ آدمی اٹھا۔ اس نے کہا — میرا نام چارلس اسٹین ہے۔ میں تمام عمر سوئی کے ایک کارخانے میں کام کرتا رہا ہوں۔ میری عمر 77 سال ہے۔ میں وہ چیز پانا چاہتا ہوں جو میں اپنی نوجوانی کی عمر میں نہ پاسکا۔ میں مستقبل کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ میں ایک تعلیم یافتہ انسان کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں:unverified

My name is Charles Stein. I am a needle worker all my life. I am seventy-seven years old, and I want to get what I did not get in my youth. I want to know about the future. I want to die an educated man. (page 427)other source

گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو مذکورہ آدمی کا مسئلہ حقیقۃً معرفت یا ادراکِ حقیقت تھا، نہ کہ سادہ طورپر صرف ایجوکیشن۔ گویا کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میں ایک صاحبِ معرفت انسان (realized man) کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں۔

یہی ہر انسان کی نفسیات ہے۔ ہر انسان اِس نفسیات میں جی رہا ہے کہ وہ حقیقت کا ادراک نہ کرسکا۔ گویا کہ ہر انسان اِس تلاش میں ہے کہ وہ یہ جان سکے کہ سچائی کیا ہے۔

ہر انسان معرفت کی تلاش میں ہے۔ خوش قسمت انسان وہ ہے جو معرفت کو پالے۔ اُس پر موت آئے تواِس حال میں آئے کہ وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن چکا ہو۔