Al-Risala March 2008

کامیابی کا فارمولا

Al-Risala March 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (14 chapters)
  1. الرسالہ - March 2008
  2. سب سے بڑا مسئلہ
  3. جہاد اسلامی تاریخ میں
  4. عظیم ترین شہادت
  5. گلوبل وارمنگ یا ڈِوائن وارننگ
  6. انسانی تاریخ کے دو دَور
  7. فرائض اور نوافل
  8. بریک اِن ہسٹری
  9. کامیابی کا فارمولا
  10. کثرت کے درمیان قلّت
  11. اِزدواجی زندگی
  12. حسن ِتدبیر
  13. جھوٹ کی دو قسم
  14. غریبی اور امیری

کامیابی کا فارمولا

ایک صاحب نے پوچھا کہ موجودہ دنیا میںکامیاب زندگی کی تعمیر کا فارمولا کیا ہے۔ میںنے کہا کہ کامیاب زندگی کا انحصار دو چیزوں پر ہے— آدھا عمل پر، اور آدھا بے عملی پر۔ اُن کو میرا یہ جواب بہت عجیب معلوم ہوا۔ انھوںنے دوبارہ پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔میںنے کہا کہ عمل یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کریں۔ بے عملی یہ ہے کہ آپ دوسروں سے نہ ٹکرائیں۔ جب بھی دوسروں کے ساتھ کوئی شکایت کی بات پیش آئے تو اُس وقت آپ اُن کے مقابلے میں بے عمل بن جائیں، یعنی دوسروں سے الجھے بغیر اپنا سوچا سمجھا کام جاری رکھیں۔ موجودہ دنیا میںکامیابی کے لیے یہ دونوں چیزیں یکساں طورپر ضروری ہیں۔اِس اصول کا تعلق، انفرادی کامیابی سے بھی ہے اور اجتماعی کامیابی سے بھی۔original + quote

انفرادی معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو لینے کے لیے لائن (قطار) میں کھڑے ہوئے ہیں۔ بعد کو ایک آدمی آتا ہے اور وہ لائن توڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے اور اپنا کام پہلے کرالیتا ہے۔ ایسے موقع پر آپ خاموش مشاہد بن جائیے۔ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ اپنا کام کیجئے اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے جائیے۔ یہ انفرادی معاملے میں ’’بے عملی‘‘ کی مثال ہے۔ اِس طرح کے معاملے میں اگر آپ غصہ ہوجائیں اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کا ایسا کرنا ہمیشہ خود آپ کے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔

اجتماعی معاملے کی ایک مثال پالٹکس آف اپوزیشن ہے۔ آج کل ہر لیڈر یہ کررہا ہے کہ وہ کوئی سماجی مسئلہ لے کر اتھارٹی کے خلاف احتجاج (protest) کی مہم چلادیتا ہے۔ اِس طریقِ کار کے نتیجے میں لیڈر کو تومقبولیت مل جاتی ہے، لیکن سماج کو اِس کا کوئی فائدہ نہیںملتا۔ یہاں بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے خلاف احتجاجی مہم چلانے کے بجائے تعمیر کے میدان میں کوئی مثبت کام کیاجائے۔ مثلاً تعلیم کا میدان — اِس دنیا میں کامیابی کے لیے عمل جتنا زیادہ ضروری ہے، اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بے عمل ہونے کا فن بھی جانتے ہوں۔