Al-Risala June 2017

ہر چیز ہر ایک کے لیے

Al-Risala June 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - June 2017
  2. رمضان کا مہینہ شکر کا مہینہ
  3. اعتکاف کا مہینہ
  4. ہزار مہینے کے برابر
  5. یہ قرآن کی فضیلت نہیں
  6. قرآن کی تفسیر
  7. قرآن، کتاب مہجور
  8. اعلیٰ معرفت
  9. اللہ کے ننانوے نام
  10. عطیات خداوندی
  11. اللہ کے محبوب بندے
  12. مومن قوی، مومن ضعیف
  13. اپنی تعمیر آپ
  14. انسان کی تخلیق
  15. جنت کس کے لیے
  16. جنت انسان کا ہیبیٹاٹ
  17. استعداد بڑھایے
  18. ابلیس کا طریقہ
  19. انسان اللہ کا امین
  20. موت کا مثبت تصور
  21. ری ایکشن کلچر
  22. دعوت سے بے خبری
  23. اجتہادی خطا کا معاملہ
  24. اصل مسئلہ
  25. بقدر استطاعت کا اصول
  26. دلیل کے بغیر
  27. مصیبت کا قانون
  28. ہر چیز ہر ایک کے لیے
  29. منفی سوچ نہیں
  30. چلو یہ بھی ٹھیک ہے
  31. غلطی کو سنبھالنا
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز — 252

ہر چیز ہر ایک کے لیے

9 اپریل 2017 کونئی دہلی کے انگریزی اخبار ، دی ٹائمس آف انڈیا(اسپیکنگ ٹری ایڈیشن) میں راقم الحروف کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے، جمہوریت سب کے لیے :

Democracy is for all

یہ بات صرف جمہوریت کے لیے نہیں ہے، بلکہ پورے دور (age)کے لیے ہے۔ موجودہ دور ایک نیا دور ہے۔ اس دور میں قدیم طرز کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اب دنیا میں کوئی مراعات یافتہ طبقہ (privileged class)نہیں۔ اب ہر موقع ہر ایک کے لیے کھل گیا ہے۔ اب ہر آدمی اپنے حوصلے کے مطابق جس میدان میں چاہے اپنی قسمت آزمائی کرسکتا ہے۔ اب کسی شعبہ پر کسی طبقے کی اجارہ داری (monopoly) نہیں۔ تاہم ایک شرط ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی کوشش امن (peace) کے دائرے میں کرنا چاہیے۔ تشدد کا دائرہ کسی کے لیے بھی کھلا ہوا نہیں ہے۔ جب تک آپ پرامن رہیں، کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ تشدد کا طریقہ اختیار کریں تو دنیا میں کوئی آپ کی حمایت کرنے والا نہیں ہوگا۔

اس نئے ظاہرہ نے تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ بڑھادی ہے۔ ہر قسم کے تعلیمی ادارے ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر کھل گیے ہیں۔ یہ ادارے آپ کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں، اور پھر آپ کی تعلیمی لیاقت کا امتحان لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی لیاقت (competence) کے مطابق آپ کو ڈگری دیتے ہیں۔ یہی تعلیمی ڈگریاں موجودہ زمانے میں آدمی کی پروفیشنل پہچان بن گئی ہیں۔ اب ہر انسا ن کو اس کی تعلیمی ڈگری کی حیثیت سے جانچا جاتا ہے، اور اسی کے مطابق اس کو مواقع دیے جاتے ہیں۔ تعلیم کا یہ دروازہ ہر مرد اور ہر عورت کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اب ہر ایک کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر اس کا سرٹیفکٹ یا ڈگری حاصل کرے۔ یہ ڈگری ساری دنیا میں اس کے لیے کار آمد بن جائے گی۔