← back to shukr · Al-Risala June 2016

بعد کے زمانے کا فتنہ

Al-Risala June 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - June 2016
  2. خدا کا تجربہ
  3. جنّتی شخصیت
  4. سب سے زیادہ خطرناک
  5. بیمار ی سے تطہیر
  6. مصیبت بھی رحمت ہے
  7. نصیحت پذیری
  8. ہر حال میں خیر
  9. تواضع ایک عظیم عبادت
  10. اختیارِ اَیسر— ایک سنّت
  11. تشدد کا سبب عدم قناعت
  12. اعتدال کا طریقہ
  13. ارتقا کے تین درجے
  14. سب سے بڑی خوشی
  15. مومن کی صفت
  16. عمل کا مدار نیت پر ہے
  17. ہر چیز پرچۂ امتحان
  18. گھرایک تربیت گاہ
  19. سب سے بڑی نعمت
  20. ایک حدیث
  21. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  22. دوطرفہ معاملہ
  23. بولنے پر کنٹرول
  24. اکرام یا تکلف
  25. دوسرے کے لیے دعاء
  26. اعلیٰ عبادت
  27. دنیا کی حقیقت
  28. تحفہ کلچر
  29. سجدۂ قربت
  30. انسان ایک استثنائی مخلوق
  31. بعد کے زمانے کا فتنہ
  32. ضرورت، یا خواہش پرستی
  33. دولت پرستی کا فتنہ
  34. عجلت پسندی
  35. اولاد پرستی کا فتنہ
  36. رعایت ایک سنتِ رسول
  37. سنّت کیا ہے

بعد کے زمانے کا فتنہ

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیخرج قومٌ فی آخر الزّمان ، أحداث الأسنان، سُفہاء الأحلام، یقولون من خیر قول البَریَّۃ۔ یقرؤن القرآن، لایجاوز إیمانہم حناجرہم، یمرقون من الدین کما یمرق السہم من الرّمیۃ (صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب قتل الخوارج)یعنی آخری زمانے میں کچھ لوگ نکلیں گے، کم عمر والے، کم عقل والے۔ بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے۔وہ قرآن کو پڑھیںگے، مگرایمان اُن کے حلق سے تجاوز نہ کرے گا۔ وہ دین سے اِس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جس طرح تیر شکار کے اوپر سے نکل جاتا ہے۔اِس حدیث میںایک چیز مابین السطور (between the lines) ہے۔ اس کو شامل کرنے کے بعد ہی یہ حدیث پوری طرح سمجھی جاسکتی ہے، وہ مابین السطور یہ ہے کہ آئندہ ایسے حالات پیدا ہوں گے جو لوگوں کو یہ موقع دیں گے وہ علم اور تجربہ کی کمی کے باوجود نمایاں ہوجائیںگے، وہ لوگوں کے درمیان بڑے بڑے درجے حاصل کرلیں گے۔unverified

موجودہ زمانہ وہی زمانہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔موجودہ زمانے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے حالات سے کیا مراد ہے۔ وہ ہے میڈیا، اسٹیج، آزادی، جمہوریت، دولت کی فراوانی، مظاہرہ کی سیاست ، مسلمانوں کی عظیم اکثریت، وغیرہ۔آج صاف نظر آتا ہے کہ اِن نئی چیزوں نے کس طرح لوگوں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ بے صلاحیت ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کے درمیان اونچا مقام پالیں ، جو داخلی اعتبار سے سطحی ہونے کے باوجود ظاہری نمائش کے ذریعے عوامی مقبولیت حاصل کرلیں، جو قرآن کی روح سے خالی ہونے کے باوجود محض اپنی خوش الحانی کے ذریعے شہرت حاصل کرلیں، جو خدا کے خوف اور آخرت سے غافل ہونے کے باوجود عوامی تقریریں کرکے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیں۔ یہ سب صنعتی دور میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کی بناپر پیش آئے گا۔ افراد ہمیشہ حالات سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ حالات کے بغیر۔unverified