← back to shukr · Al-Risala June 2015

نسخ کیا ہے

Al-Risala June 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - June 2015
  2. فطرت کا ایک قانون
  3. شیطان کا وسوسہ
  4. ایک سنت ِ رسول
  5. معرفت ایک تخلیقی عمل
  6. دعوت حق کے دو دَور
  7. مطلوب رہنمائی
  8. حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ
  9. دورِ مواصلات
  10. دعوت فرضِ عین یا فرضِ کفایہ
  11. شہادت امتِ مسلمہ کا مشن
  12. قرآن کتاب ِتدبر
  13. گلوبل کمیونی کیشن کا دَور
  14. قرآن کی حفاظت
  15. امت کا زوال
  16. نسخ کیا ہے
  17. عورت اور مرد کا تعلق
  18. دفاع یا دعوت
  19. قرآن وسنت
  20. بدترازحیوان
  21. علم کا سفر
  22. موت کے دروازے پر
  23. شکایت، اعتراف
  24. حقیقت پسندانہ سوچ
  25. خبر نامہ اسلامی مرکز— 234

نسخ کیا ہے

قرآن کی سورہ البقرة کی ایک آیت یہ ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر(2:106) یعنی ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیںیا بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری لاتے ہیں- کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے-Qur'an

قرآن کی اِس آیت میں نسخ سے مراد الغاء (to abolish) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہٹانا (replacement) ہے- آیت میں اس عمل کو بظاہر اللہ کی طرف منسوب کیا گیاہے، لیکن یہ اسلوب کی بات ہے- اس سے مراد حقیقتاً اجتہاد کا عمل ہے، جس کو متقی اہل علم انجام دیتے ہیں- خیر سے مراد اچھا (better)نہیں ہے بلکہ اس سے مراد انسانی حالات کے اعتبار سے زیادہ قابلِ تطبیق (more applicable) ہونا ہے-

قرآن کے مطابق، اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی (33:23)- مگر انسان ایک آزاد مخلوق ہے، اس بنا پر انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں- حالات کی اس تبدیلی کی بنا پر ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کے کسی حکم کو مطابقِ حالات بنانے کے لیے اس کو ری ڈیفائن (redefine)کیا جائے یا حالات کے مطابق اس کی نئی تفسیر (re-interpretation) کیا جائے- یہی وہ فطری ضرورت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میںنسخ سے تعبیر کیا گیا ہے-original + quote

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی کچھ آیتوں میںاہل ایمان کو قتال (war) کا حکم دیا گیا ہے- یہ حکم توحید کی طرح ابدی حکمکے معنی میں نہ تھا، بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب تھا- اب حالات مکمل طورپر بدل گئے ہیں- قدیم دور اگر جنگ کا دور تھا تو اب دنیا میں امن کا دور آچکا ہے، اب اسلام کے مقصود کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں- اس لیے اب قتال کی آیت کی تشریح نو (re-interpretation) کی جائے گی، اور یہ نئی تشریح بلا شبہہ قرآن کے مطابق قرار پائے گی-