Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دعوت حق کے دو دَور
حضرت ابراہیم ایک پیغمبر تھے- ان کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے- ان کی ایک دعا وہ ہے جو انھوں نے تعمیر کعبہ کے وقت قدیم مکہ میں کی تھی- قرآن کے مطابق ان کے الفاظ یہ تھے: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ(2:128) یعنی اے ہمارے رب، ہم کو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل میں سے اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا-original + quote
اس ابراہیمی دعا کا ذکر بائبل میں اس طرح آیا ہے — (اور خداوند نے کہا) ابراہام سے یقیناً ایک بڑی اور زبردست قوم پیدا ہوگی اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی:other source
(And the Lord said) since Abraham shall surely become a great and mighty nation, and all the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18: 18)other source
تاریخی پس منظر کو شامل کرکے غور کیا جائے تو اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر ابراہیم تک بہت سے پیغمبر آئے تاکہ وہ امر حق کا اعلان کریں، لیکن اس پوری مدت میں یہ خدائی مشن ایک انفرادی مشن بن کر رہ گیا- اب اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ امت (team) کی سطح پر اس کو انجام دیا جائے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں ایک عمل (process) شروع ہوا- اس کے بعد ابراہیم اور اسماعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں سے ایک نسل (بنو اسماعیل) تیار ہوئی، جس کے اندر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے- ان کی دعوتی کوشش سے بنو اسماعیل میں ایک مطلوب ٹیم بنی، جس کو ایک حدیث میں العصابة (مسند احمد: 221) کہاگیاہے- اس العصابہ نے اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا-original + quote
یہ روایتی دور (traditional age) کی بات تھی- اب سائنسی دور (scientific age) کے تحت نئے دعوتی مواقع پیدا ہوئے ہیں- اب دوبارہ ایک العصابہ کی ضرورت ہے جو جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے نئے دور میں امرِ حق کا اظہار کرے-