Al-Risala June 2012

کوثر— خیر ِ کثیر

Al-Risala June 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - June 2012
  2. انابت الی اللہ
  3. اللہ کی محبت
  4. کوثر— خیر ِ کثیر
  5. نماز میں خشوع
  6. منصوبۂ خداوندی کی مخالفت
  7. وسیلہ کی حقیقت
  8. صلاۃ وسلام
  9. ایک واقعہ
  10. عجیب اور سبق آموز
  11. دعوتِ قرآن
  12. مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی
  13. امتِ مسلمہ کا احیا
  14. اصلاح کا صحیح طریقہ
  15. مسئلے کا حل
  16. اسلامی تحریک کا ہدف
  17. انسانی ذمّے داری
  18. جذباتی سیاست کا نقصان
  19. مسئلہ یا چیلنج
  20. ایک سبق آموز واقعہ
  21. سوال و جواب
  22. خبر نامہ اسلامی مرکز — 216

کوثر— خیر ِ کثیر

قرآن کی سورہ الکوثر (108) کا ترجمہ یہ ہے: ’’ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔ پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمھارا دشمن ہی بے نام ونشان ہے‘‘۔Qur'an

کوثر مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے — خیر کثیر۔ خیر کثیرسے کیا مرادہے، اس کی وضاحت قرآن کی دوسری آیت سے ہوتی ہے۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں یہ آیت آئی ہے: یؤتی الحکمۃ من یشاء، ومن یؤت الحکمۃ فقد أوتی خیراکثیرا۔ وما یذکر إلاّ أولوا الألباب (2: 269) یعنی اللہ جس کو چاہتاہے، اُس کو حکمت عطا کرتاہے، اور جس کو حکمت دی گئی، اُس کو خیر کثیر دے دیاگیا۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔original + quote

قرآن کی اِس آیت میں حکمت سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن کے دوسرے مقام پر معرفت یا عرفانِ حق (5: 83) کہاگیا ہے۔ معرفت کا تعلق عقلی دریافت سے ہے اور یہ معرفت بلاشبہہ کسی مومن کے لیے سب سے بڑی چیز ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت اہلِ مکہ یا اہلِ عرب کے درمیان اگرچہ مذہب کے نام پر مختلف قسم کے مذہبی رسوم (religious rites) موجود تھے، مگر وہ لوگ خدا کی سچی معرفت سے کامل طورپر محروم تھے۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبراسلام کو سچی معرفت عطا فرمائی۔ اِس کا ذکر قرآن کی دوسری آیت میں اِن الفاظ میں کیا گیا ہے: ووجدک ضالاّ فہدی (93: 7) ۔original + quote

سورہ الکوثر میں صلوٰۃ اور نحر کے الفاظ علامتی طورپر آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ سے تعلق قائم کرو، تاکہ شکر کا جذبہ پوری طرح برقرار رہے۔ ’نحر‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو دعوتی مشن تم کو دیاگیا ہے، قربانی کی سطح پر تم اس مشن کو جاری رکھو۔ مخالفین کی مخالفت تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی، وہ خود ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔