Al-Risala July 2022

ماننے سے پہلے تحقیق

Al-Risala July 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - July 2022
  2. اللہ کی محبت
  3. طوفان کا سبق
  4. انسان کادرجہ
  5. ماننے سے پہلے تحقیق
  6. تنقید، تنقیص
  7. ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت
  8. ایثارِنفس
  9. لالچ کانقصان
  10. اعلیٰ اخلاق
  11. ناپ تو ل میں فرق کرنا
  12. مشقتوں کے درمیان
  13. مشکل میں آسانی
  14. ایج شاک
  15. الفاظ، الفاظ، الفاظ
  16. مطالعۂ حدیث
  17. اللہ کی مدد
  18. مستقبل کی دنیا
  19. ذہن سازی، بزور نفاذ
  20. ایک سوال
  21. ڈائری 1986
  22. داعیانہ کردار
  23. خبرنامہ اسلامی مرکز- 277

ماننے سے پہلے تحقیق

قرآن کی سورہ الحجرات میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو صرف سن کر نہ مان لیا جائے۔ مذکورہ آیت کاترجمہ یہ ہے’’ اے ایمان والو، اگرکوئی فاسق تمہارے پاس خبرلائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیاکرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کونادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتا نا پڑے‘‘(49:6)۔original + quote

لوگ جب مل جل کر رہتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے بار بار خبریں پہنچتی ہیں۔ ان خبروں پر سننے والے کاردعمل کیا ہونا چاہیے اسی کی با بت ایک اصول مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ سننے والا جب کسی بات کو سنے تو ماننے سے پہلے اس کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بغیر صرف سننے کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔

تجربہ بتا تا ہے کہ اکثرایک کی بات دوسرے تک صحیح شکل میں نہیں پہنچتی ۔ بات کو پہنچانے والا درمیانی شخص اکثربات کو بدل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر بات کاایک بیک گرائونڈیا موقع ومحل ہوتا ہے۔ مگر بات کو نقل کرنے والا اکثرایسا کرتا ہے کہ وہ بیک گرائونڈ کو بتائے بغیر مجردشکل میں بات کو بیان کر دیتا ہے۔ اس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بات اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کچھ ہوتی ہے اور سننے والے تک پہنچ کر وہ کچھ اور ہوجاتی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سننے والا آدمی غلط رائے قائم کرتا ہے اور غلط اقدام کر ڈالتا ہے جس کانتیجہ آخر کار اس صورت میں نکلتا ہے کہ آدمی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، حالاں کہ اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔

یہ مسئلہ ہر سماج میں پیش آتا ہے۔ اس کاحل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر یہ مزاج بنائے کہ وہ صرف سن کر کسی بات کو نہ مان لے۔ ماننے سے پہلے وہ ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو ایسی حالت میں اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ سنی ہوئی بات کو بھلا دے۔ وہ اس پر نہ کوئی رائے قائم کرے اور نہ اس کی بنیاد پر کسی اقدام کامنصوبہ بنائے۔