← back to shukr · Al-Risala July 2020

غیر ضروری کلام سے بچئے

Al-Risala July 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - July 2020
  2. ابتغاء رضوان اللہ
  3. نماز کے بغیر نجات نہیں
  4. فرقان کیا ہے
  5. قرآن میں تدبر کی اہمیت
  6. ذکر اور دعاء
  7. سب سے بڑی خوشی
  8. ایک قانونِ فطرت
  9. فتح ، فتحِ مبین
  10. متواضع آغاز، پُر فخر آغاز
  11. ہجرت برائے دعوت
  12. نچلے طبقے میں دعوتی کام
  13. وہ آنے والا
  14. امت کا زوال
  15. امن، امن، امن
  16. مسلمانوں کی علاحدہ سیاسی پارٹی
  17. اللہ کا فیصلہ یا اجتہادی خطا
  18. غیر اسلامی روش
  19. ذہین وجود
  20. بااصول زندگی
  21. زندگی کی تعمیر
  22. غیر ضروری کلام سے بچئے
  23. تھرڈ آپشن سے بے خبر
  24. سوال وجواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز — 203
  26. Al-Quran Mission

غیر ضروری کلام سے بچئے

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ دیر تک میرے پاس رہے۔ جب وہ جانے لگے تو انھوںنے مجھ سے کہا کہ مجھ کو کوئی نصیحت کیجئے۔ میں نے اُن سے ان کی ڈائری مانگی۔ انھوںنے کہا کہ میرے پاس ڈائری نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر یہ نصیحت لکھ کر انھیں دے دی— اپنے آپ کو غیر ضرور ی کلام سے بچائیے:

Save yourself from unnecessary talk.

اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ غیر ضروری باتیں کرتے ہیں۔ غیر ضروری باتیں کرنے والوں کی ایک پہچان یہ ہے کہ جب وہ بولنا شروع کریں گے تووہ بولتے ہی رہیں گے، وہ خود سے چپ نہیں ہوں گے، جب تک آپ مداخلت کرکے اُنھیں چپ ہونے پرمجبور نہ کردیں۔

ایسا کیوںہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دماغ میں بے شمار باتیں بھری ہوئی ہیں۔ جب آدمی بولتا ہے تو یہ تمام باتیں اس کے حافظے میں آنے لگتی ہیں۔

ایسی حالت میں منضبط کلام صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو باتوں کو سارٹ آؤٹ (sort out) کرنا جانتا ہو۔ وہ کسی بات کے غیر متعلق (irrelevant)پہلوؤں کو الگ کردے اور صرف متعلق (relevant) پہلو کو گفتگو کے وقت اپنے سامنے رکھے۔ وہ خود سوچ کر یہ جان لے کہ سننے والا اصلاً کس بات کو سننا چاہتا ہے۔

بیش تر لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ گفتگو اور تقریر دونوں میں لمبی لمبی باتیں کرتے ہیں اور سننے والا کچھ سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیںاور اُن کا نقطہ نظر کیا ہے۔

بولنے سے پہلے سوچئے، پیشگی طورپر یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ موقع کی نسبت سے آپ کو کیا بات کہنا ہے اور کیا بات نہیں کہنا ہے، بولئے کم اور سنئے زیادہ — یہی وہ صفت ہے جو آپ کو غیر ضروری کلام (unnecessary talk) سے محفوظ رکھے گی۔