← back to shukr · Al-Risala july 2008

ہر گھر دعوتی مرکز

Al-Risala july 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - july 2008
  2. قربِ قیامت کا مسئلہ
  3. امتِ وسَط
  4. شر میں خیر
  5. ہیمرنگکی زبان
  6. تحقیق کے بغیر
  7. حِلفُ الفُضول
  8. ہر گھر دعوتی مرکز
  9. ٹیلی فون کا دور
  10. فخر، تواضع
  11. ابدی انجام
  12. سر، یہ آپ کے لیے ہے
  13. دعوت الی اللہ کا کام
  14. طوفانِ قیامت
  15. دعوت الی اللہ کے تین دَور
  16. کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
  17. گنہ گار شخصیت، کم زور شخصیت
  18. کم پر راضی ہونا
  19. خود ساختہ منطق
  20. محبت اور نفرت
  21. جنون درکار ہے
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 186

ہر گھر دعوتی مرکز

حضرت موسیٰ کا زمانہ پندرھویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے، یعنی اب سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ۔ وہ قدیم مصر میں پیغمبر بنائے گئے۔ اُس وقت مصر میں بنی اسرائیل چند لاکھ کی تعداد میں آباد تھے۔ وہ گویا اُس زمانے کے اہلِ ایمان تھے۔ اُس وقت بنی اسرائیل کو ایک حکم دیاگیا، جو قرآن میںاِن الفاظ میںآیاہے: اجعلوا بیوتکم قبلۃ (یونس: 87 ) یعنی تم اپنے گھروں کو قبلہ بنالو۔ ’’اپنے گھروں کو قبلہ بنالو‘‘ کا حکم دینے کا مطلب یہ تھا کہ اگر میکسمم (maximum) صورت ممکن نہ ہو، تو مینمم (minimum) صورت تو ہر حال میں ممکن ہوتی ہے، اور تم کو اِس حکمت کو اختیار کرنا چاہیے۔original + quote

قبلہ اُس مرکزی جگہ کو کہتے ہیں، جس کی طرف توجہ کی جائے۔ جولوگوں کے لیے فوکس آف اٹنشن (focus of attention) یا سنٹر آف اٹنشن (centre of attention) کی حیثیت رکھتا ہو۔ اُس وقت کے حالات میں اِس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے گھروں کو اپنے لیے دعوتی اور تربیتی عمل کا مرکز بنالو۔

یہ ایک تدبیر تھی، اور یہ تدبیر ہر زمانے میںاورہر مقام پر مطلوب ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی ہمیں دعوتی عمل کو مستحکم کرنے کے لیے یہی کام کرنا ہے۔ وہ تمام لوگ جو کہ دعوت الی اللہ کاکام کرناچاہتے ہیں، اُن پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ اُن میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام پر اِس قسم کا ’’قبلہ‘‘ بنائے۔ گھروں کو قبلہ بنانے کا حکم جو بنی اسرائیل کو دیاگیا، وہ گویا کہ اِس معاملے کی آخری ممکن صورت تھی۔ بلاشبہہ یہ ایک ایسی صورت تھی، جو ہر ایک کے لیے اور ہمیشہ ممکن ہوتی ہے۔

موجودہ زمانے میں اِس کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مقام پر لائبریری کے نام سے ایک جگہ بنائے، خواہ اپنے گھر کے اندر، یا اپنے گھر کے باہر ۔ حتی کہ اگر کسی کے پاس ایک کمرے کا گھر ہو، تب بھی وہ اس کے ایک حصے میں کتابوں کی الماری کھڑی کرکے اس کو لائبریری کی صورت دے سکتا ہے۔ یہ لائبریری عملاً دعوت اور تربیت کا ایک مرکز ہوگی۔ ضرورت ہے کہ اِس طرح کے مراکز ِ دعوت ہر جگہ قائم کیے جائیں۔