Al-Risala July 2005

سب سے بڑی طاقت

Al-Risala July 2005 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - July 2005
  2. شخصیت کی تعمیر
  3. جیسا بونا ویسا کاٹنا
  4. اعترافِ خطا ایک نعمت
  5. سفر کا آغاز
  6. غصہ کا نقصان
  7. زندگی کے دو طریقے
  8. مسئلہ کا حل
  9. دو درجے
  10. برداشت کرنا واحد حل
  11. سب سے بڑی طاقت
  12. مسائل اور ان کا حل
  13. منفی پہلو میں مثبت پہلو
  14. خاندانی زندگی
  15. تحفہ کی نفسیات
  16. ایک نصیحت
  17. مثبت سوچ کی ضرورت
  18. غلط فہمی
  19. صبر کا فائدہ
  20. مشورہ کی اہمیت
  21. دو کشتی کی سواری
  22. آدھی کہانی
  23. نشانِ منزل
  24. سوال وجواب
  25. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۷۰

سب سے بڑی طاقت

لوگ سمجھتے ہیں کہ سب سے بڑی طاقت جنگ جوئی کی طاقت ہے۔ یعنی لوگوں سے نہ دبنا، لوگوں سے سختی کے ساتھ معاملہ کرنا، اگر ضرورت پڑے تو لوگوں کے خلاف تشدد کا طریقہ استعمال کرنا۔ عام طورپر لوگ اس کو طاقت سمجھتے ہیں۔ مگر یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس قسم کا خیال فطرت کے نقشہ کے سراسر خلاف ہے۔

فطرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سختی کے مقابلہ میں نرمی کا طریقہ زیادہ مؤثر ہے۔ نرمی کا طریقہ اختیار کرکے آپ انسان کو جیت لیتے ہیں۔ کسی کو زیر کرنے کے لیے سب سے زیادہ کار گر اصول یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جو اس کے ضمیر کو آپ کا ہمنوا بنا دے۔ یہ فائدہ صرف نرمی کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔

اس مفہوم میں اپنے آپ کو طاقتور بنانے کا ایک آسان فارمولا یہ ہے کہ آپ غلطی کے اعتراف کی عادت ڈالیں۔ جب کسی کے ساتھ آپ کی تکرار ہوجائے اور آپ محسوس کریں کہ آپ غلطی پر تھے تو عزت کا خیال کیے بغیر فوراً یہ کہہ دیجئے کہ آپ صحیح ہیں اور میں غلط ہوں:

You are right, I am wrong.

یہ اعتراف در اصل خود اپنی تربیت ہے۔ اعتراف آدمی کے اندر تواضع کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ فطرت کے مطابق، بے اعترافی سرکشی کی غذا ہے اور اعتراف تواضع کی غذا۔ جو آدمی اعتراف نہ کرے وہ گویا اپنے اندر چھپی ہوئی انانیت اور سرکشی کو غذا دے رہا ہے۔ وہ اپنی انانیت اور سرکشی کو زیادہ پختہ کررہا ہے۔ ایسا آدمی سب سے بڑی طاقت سے محروم ہوجائے گا۔

اس کے برعکس جو آدمی غلطی کے وقت فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلے وہ اپنے اندر تواضع کی پرورش کررہا ہے۔ وہ اپنی تواضع کو غذا دے کر اس کو اور زیادہ بڑھا رہا ہے۔ وہ اپنے اندر تواضع کی صفت کو اور زیادہ مستحکم کررہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، اپنے آپ کو طاقتور سے طاقتور تربنا رہا ہے۔