Al-Risala January 2022

نظریۂ ارتقا

Al-Risala January 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - January 2022
  2. انسان کی تخلیق
  3. خدا کی حکومت
  4. نکاح خیر کا دروازہ
  5. طلاق کا مسئلہ
  6. ــــــــــــــــــــــــــــــــ
  7. نظریۂ ارتقا
  8. ارتقا کے دلائل
  9. فرق، نہ کہ تبدیلی
  10. ارتقا علم کی کسوٹی پر
  11. نظریۂ ارتقا پر شبہات
  12. نینڈر تھل مین
  13. پدم وبھوشن ایوارڈ
  14. پلٹ ڈاؤن مین
  15. ارتقا کا مفروضہ قافلہ
  16. ڈارونزم
  17. تدریجی ارتقا کا ثبوت نہیں
  18. تکمیلِ دین کی طرف
  19. فرد، سماج
  20. قیامت کی طرف

نظریۂ ارتقا

عضویاتی ارتقا (Organic Evolution)جدید دنیا کے لیے ایک سائنٹفک حقیقت ہے۔ سائنس آف لائف کے مصنفین نے لکھا ہے کہ’’عضویاتی ارتقا کے حقیقت ہونے سے اب کسی کو انکار نہیں ہے۔ سوا ان لوگوں کے جو جاہل ہوں یا متعصب ہوں یا اوہام پرستی میں مبتلا ہوں۔‘‘ اس نظریہ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ لل (R. S. Lull) کی سات سو صفحے کی کتاب میں زندگی کے تخلیقی تصور(special creation) پرصرف ایک صفحہ اور چند سطریں ہیں اور بقیہ تمام صفحات عضویاتی ارتقا کے بارے میں ہیں۔لل لکھتا ہےoriginal + quote

’’ڈارون کے بعد سے نظریہ ارتقا دن بدن زیادہ قبولیت حاصل کرتا رہا ہے، یہاں تک کہ اب سوچنے اور جاننے والے لوگوں میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ یہ واحد منطقی طریقہ ہے جس کے تحت عمل تخلیق کی توجیہ ہو سکتی ہے اور اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔‘‘opposing view

Organic Evolution, p.15

ماڈرن پاکٹ لائبریری(نیویارک) نے(Man and the Universe) کے نام سے کتابوں کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے۔ اس سلسلہ کی پانچویں کتاب میں ڈارون کی کتاب’’اصل الانواع‘‘ کو تاریخ ساز تصنیف قرار دیا ہے۔اسی طرح انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا(1958) میں تخلیق(creationism) کے نظریہ کو چوتھائی صفحہ سے بھی کم جگہ دی گئی ہے۔other source

اس کے مقابلہ میں عضویاتی ارتقا کے عنوان کے تحت جو مقالہ شامل کیا گیا ہے وہ باریک ٹائپ کے پورے چودہ صفحات تک پھیلا ہوا ہے۔ اس مقالے میں بھی حیوانات میں ارتقا کو بطور ایک حقیقت(fact) تسلیم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈارون کے بعد اس نظریہ کو سائنس دانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ میں قبول عام(general acceptance) حاصل ہو چکا ہے۔ دورِ جدید کے اہلِ علم نے اس کی صداقت تسلیم کر لی ہے۔