Al-Risala January 2019

قرآن کی اشاعت

Al-Risala January 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2019
  2. شادابی لوٹ آ ئی
  3. بحران کا مسئلہ
  4. صاحبِ مطالعہ انسان
  5. تربیتِ افراد
  6. قرآن کی اشاعت
  7. معرفت یا معلومات
  8. انسان رخی سوچ
  9. الرسالہ کا ایک سبق
  10. مشن، انٹرایکشن
  11. اسوہ رسول
  12. الرسالہ مشن
  13. تعمیری مشن، غوغائی سیاست
  14. قاری الرسالہ کا تاثر
  15. اسپریچول کلاس
  16. سی پی ایس انٹرنیشنل
  17. روحانی ارتقا
  18. نقل اور عقل
  19. مین آف مشن
  20. آسان تدبیر
  21. چشمہ کا سبق
  22. خدا کے حق کی قیمت پر
  23. لائن آف ایکشن کا مسئلہ
  24. الرسالہ مشن کے متعلق بعض سوالات
  25. ایک سوال
  26. ایک انٹرویو

قرآن کی اشاعت

ہمارے ادارے کے ذریعے اللہ کے فضل سے قرآن کے ڈسٹری بیوشن کا کام برابر کیا جاتا ہے۔ تقریباً تمام میجر زبانوں میں قرآن کا ترجمہ شائع ہوچکا ہے، اوردنیا کے مختلف حصوںمیں برابراس کے ڈسٹری بیوشن کا کام کیا جارہا ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے، جس کو ہم امت کا نمبر ایک کام سمجھتے ہیں۔ امت کی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام زبانوں میں قابلِ فہم ترجمہ (understandable translation) تیار کرے، اور اس کو اچھی طباعت کے ساتھ لوگوں تک پہنچائے۔ پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا: کیا میں نے تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ لوگوں نے بلند آواز سے کہا کہ ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ اس کے بعد آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا :اے اللہ تو گواہ رہ کہ میں نے لوگوں کو پہنچادیا ( أَلَا ہَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:اللہُمَّ اشْہَد)صحیح مسلم، حدیث نمبر 1679۔original + quote

امت مسلمہ کے تعلق سے دعوتی ذمےداری کا جو بیان قرآن میں آیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اس سےآگاہ کروں، اور وہ بھی (آگاہ کریں)جن کو یہ قرآن پہنچے (6:19)۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی طرح امت کی ذمے داری بھی لوگوں کو خدا کے پیغام سے آگاہ کرنا ہے، ان کی ذمے داری لوگوں کو کلمہ پڑھوانا نہیں ہے۔ پہنچانے کے بعد ذمے داری ان لوگوں کی ہوجاتی ہے، جن کو اللہ کا پیغام پہنچا ہے۔ البتہ امت کی مزید ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان سننے اور سنانے کی نارمل فضا کو برقرار رکھیں۔ اس معاملے میں امت کو شدت سے یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کے اور دوسروں کے درمیان مدعو فرینڈلی ماحول برقرار رہے۔یعنی پہنچانے کے بعد امت کی ذمے داری نارمل حالات کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ اس کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا۔ مدعو فرینڈلی بیہیویر (madu-friendly behaviour)کو قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا کہ پیغام کو پہنچانا۔ دعوت کے کام کو مطلوب درجے میں کرنے کے لیے یہ دونوں باتیں ضروری ہیں۔original + quote