Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تشدد کا خاتمہ
قدیم عرب میں قرآن کے ذریعہ جس طرح تشدد کا خاتمہ ہوا، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا ۚ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا ۭ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ( 3:103) یعنی اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے- پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی- پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے- اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا- اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ-original + quote
قرآن عرب میں ساتویں صدی کے نصف اول میںاترا- اس وقت عرب میں مختلف قبائل آباد تھے- ان کے درمیان مستقل طورپر قبائلی جنگ (tribal war) جاری رہتی تھی- لڑائی کی نفسیات یہ ہے کہ جو فریق ہارتا ہے، وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا- بلکہ اس کے اندر انتقام (revenge) کا جذبہ ابھر آتا ہے- اس طرح ہر شکست کے بعد انتقامی لڑائی جاری رہتی ہے- اس انتقامی کلچر کی بنا پر عرب میں مسلسل جنگ (chain war) کا ماحول قائم ہوگیا تھا-
اسی مسلسل جنگ کو قرآن میں آگ کا گڑھا کہاگیا ہے- اس آگ کے گڑھے سے نکلنے کا طریقہ قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اہلِ ایمان یک طرفہ طور پر جنگ کا خاتمہ کردیں- اس کے بعد فریق ثانی اپنے آپ جنگ سے رک جائے گا، اور عملاً جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا- چنانچہ اس وقت کے اہلِ ایمان نے یہی کیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے بعد عرب میں مسلسل جنگ کا خاتمہ ہوگیا-original + quote
جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کا یہی واحد کامیاب فارمولا ہے- کسی سماج میں جنگ کا ماحول دو طرفہ بنیاد (bilateral basis) پر کبھی ختم نہیں ہوتا- جنگ کا خاتمہ صرف یک طرفہ بنیاد (unilateral basis)پر ہوتا ہے، نہ کہ دوطرفہ بنیاد پر-