Al-Risala January 2014

خدا ا ور بندہ

Al-Risala January 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (15 chapters)
  1. الرسالہ - January 2014
  2. فہمِ قرآن کی ایک شرط
  3. امت کا زوال
  4. تقدیرکامسئلہ
  5. ضرورت، نہ کہ فضیلت
  6. خدا ا ور بندہ
  7. قرآن اور نماز
  8. برعکس انجام
  9. سورہ التین کا پیغام
  10. خلافت کا تصور
  11. دورِ مسائل کا خاتمہ
  12. اسلام اکیسویں صدی میں
  13. کامیابی کا اصول
  14. @@@سوال
  15. خبرنامہ اسلامی مرکز — 225

خدا ا ور بندہ

مولانا شاہ حکیم اختر (2013-1924) ایک صوفی عالم تھے- وہ مولانا عبد الغنی پھول پوری کے خلیفہ تھے- وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ: ’’بارہ سال کی عمر تھی- جنگل کی ایک مسجد میں جاکر نماز پڑھتا اور آسمان کی طرف دیکھ کر مولانا روم کا یہ شعر پڑھتا جاتا اور روتا جاتا:original + quote

سینہ خواہم شرح شرح از فراق تا بگویم شرح از دردِ اشتیاق

ترجمہ: اے اللہ، میں آپ کی جدائی کے غم میں اپنا سینہ ٹکڑے ٹکڑے کردینا چاہتا ہوں، تاکہ میں آپ کی محبت کے دردِ اشتیاق کی شرح بیان کرسکوں‘‘- (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، جولائی- اگست 2013، صفحہ: 7) - اللہ سے محبت بلا شبہہ مطلوب ہے، لیکن یہ محبت ذاتی نوعیت کے عشق وعاشقی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اِس معنی میں ہے کہ انسان اللہ کے رحیم وکریم ہونے کو دریافت کرے اور اس کے نتیجے میں وہ حمد اور شکر کی اعلی کیفیات سے سرشار ہوجائے، وہ معرفتِ خداوندی میں جینے لگے، اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کا عمل (process) شروع ہوجائے-original + quote

جب ایسا ہوگا تو آدمی کو اس کا ایک فائدہ یہ ملے گا کہ اس کے اندر وہ ربانی شخصیت بنے گی جو جنت میں داخلے کی مستحق قرار پائےاور وہ اللہ کی قربت کا تجربہ کرے- اس کے صبح وشام فرشتوں کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گے، اس کے اندر حکمت کا ’اِنبات‘ ہونے لگے گا، جیساکہ حدیث میں آیا ہے (ما زہدعبد فی الدنیا إلا أنبت اللہ فی قلبہ الحکمة)-original + quote

اِس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر شدت کے ساتھ دعوت الی اللہ کا جذبہ پیدا ہوجائے گا- وہ اِس مقصد کے لیے سرگرم ہوجائے گا کہ اللہ کے بندوں کو وہ اللہ کا پیغام پہنچا دے- اس کی اپنی معرفت اُس وقت تک مشتبہ نظر آئے گی، جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے بھی اِسی ربانی تجربے کا حریص نہ بن جائے- اس کو اپنی جنت اُس وقت تک مشتبہ دکھائی دے گی، جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے میں اپنی ساری طاقت نہ لگا دے-