← back to shukr · Al-Risala January 2014

تقدیرکامسئلہ

Al-Risala January 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (15 chapters)
  1. الرسالہ - January 2014
  2. فہمِ قرآن کی ایک شرط
  3. امت کا زوال
  4. تقدیرکامسئلہ
  5. ضرورت، نہ کہ فضیلت
  6. خدا ا ور بندہ
  7. قرآن اور نماز
  8. برعکس انجام
  9. سورہ التین کا پیغام
  10. خلافت کا تصور
  11. دورِ مسائل کا خاتمہ
  12. اسلام اکیسویں صدی میں
  13. کامیابی کا اصول
  14. @@@سوال
  15. خبرنامہ اسلامی مرکز — 225

تقدیرکامسئلہ

تقدیر (destiny) کیا ہے- عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اِس دنیا میں ہر چیز پیشگی طور پر مقدر (pre-determined)ہے- کسی آدمی کو وہی ملے گا جو اس کے لیے پیشگی طورپر لکھ دیاگیا ہے، نہ اُس سے زیادہ نہ اُس سے کم- اصولی طورپر یہ بات درست ہے، لیکن اس کو جس معنی میں لیا جاتا ہے، وہ درست نہیں- حقیقت یہ ہے کہ چیزوں کے مقدر ہونے کا مطلب انسان کے مستقبل کا پیشگی طورپر فیصلہ نہیں ہے، بلکہ اِس اصول کا پیشگی فیصلہ کرنا ہے کہ کس نقشۂ عمل کو اختیار کرکے کوئی شخص اپنامستقبل بنا سکتا ہے- گویا خود مستقبل مقدر نہیں ہے، بلکہ مستقبل سازی کے لیے تدبیر ِ کار کو مقدر کردیا گیا ہے- یہ تدبیر کار بلا شبہہ حتمی ہے، لیکن انجام کے معنی میں کسی کا مستقبل پیشگی طورپر حتمی نہیں-

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے موجودہ دنیا کو صرف تخلیق نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے اپنے تخلیقی نقشہ) (creation planکے مطابق، یہ بھی مقدر کردیا ہے کہ آدمی کی کامیابی کے لیے صحیح اور فطری طریق کار کیا ہے- اِس معاملے میں آدمی کے لیے کوئی دوسرا چوائس(choice) لینا ممکن ہی نہیں- یہی وہ حقیقت ہے جس کو تقدیر الٰہی کہاجاتا ہے-

اِس معاملے کی ایک مثال کی یہ حدیث ہے: إن اللہ یعطی على الرفق، ما لا یعطی على العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث:2593 ) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا- اِس حدیث میں یعطی کا ترجمہ بظاہر عطا کرنا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اس کا مطلب ہے عطا ہونا، یعنی اس دنیا میں اللہ تعالی نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، اس کے تحت یہاں صرف مبنی بر رفق عمل نتیجہ خیز ہوتا ہے- مبنی برعُنف عمل یہاں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتا-original + quote

اصل یہ ہے کہ انسان اپنا مستقبل خود تعمیر کرتا ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے، لیکن تعمیرِ خویش کا یہ کام ہمیشہ فطرت کے نقشے کے مطابق انجام پاتاہے- فطرت کے نقشے سے انحراف کرکے اس دنیا میں کوئی شخص اپنے لیے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا-