Al-Risala January 2011

ہدایت کا اصول

Al-Risala January 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - January 2011
  2. ہدایت کا اصول
  3. ذلت او ر مسکنت
  4. امتِ محمدی کی حیثیت
  5. مُقری کا رول
  6. سیاسی حقیقت پسندی
  7. دعاء کیا ہے
  8. دعوت کاحوصلہ
  9. لڑ کر مر جانااسلام نہیں
  10. امن کی طاقت زیادہ
  11. سچائی کی تلاش
  12. مغرب میں بسنے والے مسلمان
  13. طبقۂ عوام، طبقۂ خواص
  14. دعوت اور اصلاح کا فرق
  15. تاریخِ بشری کے پانچ دور
  16. عظیم ترین انقلاب
  17. تعارفِ قرآن
  18. مسئلہ کا حل
  19. مال کی حقیقت
  20. امریکا: دوست یا دشمن
  21. صلاحیت کے بغیر اقدام
  22. تیسرا آپشن نہیں
  23. ذہنی ارتقاء
  24. تاریخ کا قانون
  25. سوال وجواب
  26. خبر نامہ اسلامی مرکز 208 —

ہدایت کا اصول

قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: ولو علم اللہ فیہم خیراً لأسمعہم، ولو أسمعہم لتولّوا وہم معرضون(8: 23) یعنی اگر اللہ جانتا اُن میں کچھ بھلائی تو وہ ضرور اُن کو سنا دیتا، اور اگر وہ اب اُن کو سنادے تو وہ ضرور بھاگیں گے منہ پھیر کر:original + quote

If God had found any good in them, He would certainly have made them hear; they will turn away in aversion. (8: 23)Qur'an

قرآن کی اِس آیت میں جو بات اللہ کی نسبت سے کہی گئی ہے، وہ در اصل انسان کی نسبت سے ہے۔ اِس آیت میں ہدایت ملنے یا نہ ملنے کا اصول بتایا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہدایت عملی طور پر ہر ایک کے سامنے آتی ہے، لیکن اس کی قبولیت کا تعلق ہمیشہ طلبِ حق سے ہوتا ہے۔ جو شخص پہلے سے طالب (seeker)ہو، وہ فوراً ہدایت کو پہچان لیتا ہے اور اس کو دل سے قبول کرلیتا ہے۔

لیکن جس آدمی کے اندر طلب کا گہرا جذبہ موجود نہ ہو، وہ ہدایت کو پہچاننے میںناکام رہے گا، اس کا کنفیوژن اس کے لیے ہدایت کو قبول کرنے میں مانع بن جائے گیا۔

ہدایت کا سارا معاملہ سچی طلب پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر آدمی کے اندر سچی طلب موجودنہ ہو تو ہدایت اس کے سامنے آئے گی، لیکن کسی نہ کسی عذر کی بنا پر وہ اس کو قبول کرنے سے محروم رہے گا۔

طلب اگرچہ ایک فطری چیز ہے، لیکن آدمی ایساکرتا ہے کہ وہ حق کے سوا دوسری چیزوں کو اہمیت دینے لگتا ہے، مثلاً ذاتی یا قومی مصلحتوں کو۔ یہ مزاج آدمی کے اوپر اِس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ حق کو بے آمیز صورت میں دیکھ نہیں پاتا۔

یہ صورت حال اس کو کنفیوژن میں مبتلا کردیتی ہے ، اور کنفیوژن بلا شبہہ قبول حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے— حق کا سچا طالب وہ ہے جو اِس سے پہلے غیر ِ حق کی نفی کرچکا ہو۔ یہی انسان حق کا طالب ہے اور ایسے ہی انسان کو خدا کی طرف سے حق کی توفیق ملتی ہے۔