Al-Risala January 2007

ایک علمی بُرائی— دعویٰ بلا دلیل

Al-Risala January 2007 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (14 chapters)
  1. الرسالہ - January 2007
  2. ایک علمی بُرائی— دعویٰ بلا دلیل
  3. مراسلت نمبر— ۱
  4. مراسلت نمبر — ۲
  5. مراسلت نمبر— ۳
  6. مراسلت نمبر— ۴
  7. مراسلت نمبر— ۵
  8. مراسلت نمبر — ۶
  9. مراسلت نمبر — ۷
  10. مراسلت نمبر— ۸
  11. مراسلت نمبر — ۹
  12. مراسلت نمبر — ۱۰
  13. مراسلت نمبر— ۱۱
  14. مراسلت نمبر— ۱۲

ایک علمی بُرائی— دعویٰ بلا دلیل

بینک کی اصطلاح میں ڈَڈچیک(Dud Cheque) ایسے چیک کو کہا جاتا ہے جس کے پیچھے بینک کے کھاتے میں ضروری سرمایہ موجود نہ ہو۔ مثلاً آپ کے بینک کے کھاتے میں صرف ایک ہزار روپیہ موجود ہو اور آپ پچاس ہزار روپیے کا چیک لکھ کر کسی کو دے دیں تو یہ ڈڈ چیک ہوگا۔ کیوں کہ یہ چیک جب بینک میں جائے گاتو بینک یہ کہہ کر ایسے چیک کو رد کردے گا کہ لکھنے والے کے کھاتے میں بقدر ضرورت سرمایہ موجود نہیں۔

بہت سے لوگ اپنے نقطۂ نظر کی حمایت میں جو دلیل پیش کرـتے ہیں وہ ڈڈ چیک کی مانند ہوتی ہے۔ وہ بڑی بڑی باتیں لکھتے اور بولتے ہیں لیکن جب ان سے ان کے دعوے کی دلیل مانگی جائے تو وہ ایسی باتیں لکھتے اور بولتے ہیں جو علمی اعتبار سے بالکل بے وزن اور دلیل کے سرمایے سے خالی ہوتی ہیں۔

مجھے بار بار اس قسم کے تلخ تجربات پیش آئے ہیں۔ مزید یہ کہ جب میں نے ایسے حضرات کو متنبّہ کیا اور ان سے ان کے قول کی دلیل مانگی تو وہ یا تو چپ ہوگیے یا ایک اور بے دلیل بات اپنی تائید میں پیش کردی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر نہ تو علمی ذوق ہے اور نہ علمی جرأت۔ وہ بظاہر ڈگری یافتہ یا سند یافتہ ہونے کے باوجود مدلّل بات کہنے سے قاصر ہیں، اور مزید یہ کہ ان کے اندر اِس اعتراف کی جرأت بھی نہیں کہ وہ کھلے طورپر یہ کہہ سکیں کہ —ہم غلطی پر تھے۔میں نے اِس معاملے میں کئی حضرات سے خط وکتابت کی۔ اِس سلسلے میں کچھ خط وکتابت اگلے صفحات میں نقل کی جارہی ہے۔