← back to shukr · Al-Risala February 2020

اسلام میں جہاد

Al-Risala February 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - February 2020
  2. ایمان کی علامت
  3. حظِّ عظیم
  4. ہدایت کا قانون
  5. حدیث ، عارفانہ کلام
  6. حدیث کی تدوین
  7. رسول اللہ کی سنت
  8. اختلاف کو نظر انداز کیجیے
  9. حکمتِ رسول
  10. حکم اللہ کا
  11. حکومت الٰہیہ
  12. اصلاحی سیاست
  13. ائمۂ ہدایت
  14. فکری کنفیوژن
  15. اسلام میں جنگ
  16. اسلام میں جہاد
  17. ارتداد کا مسئلہ
  18. انتقام نہیں
  19. لو پروفائل، ہائی پروفائل
  20. اسلام اور سائنس
  21. زمانے کے مطابق عمل
  22. ہر مذہب سچا ہے
  23. ذاتی معاملات
  24. عقل کی بات
  25. جنون درکار ہے
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز- 271

اسلام میں جہاد

اسلام میں جہادبالسیف (مسلح جہاد) کا مقصد صرف ایک تھا ختم ِ فتنہ، یعنی مذہبی جبر (religious persecution)کا خاتمہ۔ دورِ جدید میں مذہبی جبر کا خاتمہ ہوچکا ہے، اس لیے اس زمانے میں مسلح جہاد قابلِ عمل (applicable) نہیں ہے۔ اس دور میں جہاد کی بات کرنی، یقینی طور پر بے خبری کی بات ہے۔ جہاد بالسیف کا حکم اس آیت سے معلوم ہوتا ہے:(ترجمہ)ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر (2:193)۔اس آیت میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ جہاد بالسیف صرف ختم فتنہ تک کے لیے ہے۔ جب فتنہ ختم ہوجائے تو جہاد بالسیف کا دور بھی موقوف ہوجائے گا۔ مسلح جہاد کے تعلق سے قرآن کی ایک دوسری آیت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ (61:4)۔ یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔original + quote

اس دوسری آیت کا مطالعہ پہلی آیت کے ذیل میں کیا جائے گا۔ یعنی اس آیت میں جس جہاد کا ذکر ہے، وہ پہلی آیت کی طرح ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ غیر مشروط حکم۔ یعنی جب فتنہ کے ختم کے لیے قتال جاری ہو تو اس وقت دوسری آیت (یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا ) ایک مطلوب حکم ہوگا۔ لیکن جب فتنہ کا زمانہ ختم ہوجائے، تو اس وقت جہادکرنابھی موقوف ہوجائے گا۔ختم ِ فتنہ کے لیے قتال اس لیے ضروری تھا کہ فتنہ کی وجہ سے دنیا میںمذہبی آزادی (religious freedom) کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ قدیم زمانے میں بادشاہی نظام نے مذہبی آزادی کو امر ممنوع (forbidden)قرار دے دیا تھا۔ یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھا۔ اس بنا پر ضروری تھا کہ بادشاہت کی قائم کردہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا جائے، تاکہ خالق کے نقشے کے مطابق دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آجائے۔