Al-Risala February 2008

موت ایک رِمائنڈر

Al-Risala February 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - February 2008
  2. اختیارِ اَیسر— ایک سنّت
  3. معرفتِ دین، احکامِ دین
  4. ارتقا کے تین درجے
  5. سب کچھ خدا کا عطیہ
  6. ففٹی ففٹی کا معاملہ
  7. جنت کی قیمت
  8. تقلید اور اجتہاد
  9. چند مثالی خواتین
  10. ماڈل کون
  11. ذاتی دفاع، قومی دفاع
  12. موت ایک رِمائنڈر
  13. شکر ایک قربانی کا عمل
  14. صحبت کا اثر
  15. ایک مشکل، دوآسانی
  16. حد سے تجاوز نہ کرنا
  17. عقل مند انسان
  18. جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے
  19. قانونِ فطرت کو جانیے
  20. پیچھے کی سیٹ
  21. عظمتِ خداوندی کا اعتراف
  22. خبرنامہ اسلامی مرکز— 182

موت ایک رِمائنڈر

موت مرنے والے کے لیے موت ہے، اور زندہ رہنے والے کے لیے اپنی موت کا رمائنڈر (reminder)۔ جب کوئی شخص مرتا ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک بولنے والا چپ ہوگیا، لیکن اُس کا چُپ ہونا اپنے آپ میں ایک اعلان ہوتا ہے۔ یہ اعلان کہ — آنے والا وقت میرے اوپر آچکا ، اب یہی وقت تمھارے اوپر آنے والا ہے۔ تم آنے والے وقت کے لیے تیار ہوجاؤ۔

رواج ہے کہ جب کسی شخص کی عمر کا ایک سال پورا ہوتا ہے اور اس کی عمر کا اگلا سال شروع ہوتا ہے تو اُس وقت اس کی سال گرہ (birthday) منائی جاتی ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اُس کو موت کی یاد کا دن سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کی عمر کا مسلسل کاؤنٹ ڈاؤن (count down) ہورہا ہے۔ ہر سال گرہ صرف یہ بتاتی ہے کہ تمھاری مدتِ حیات کا ایک اور سال کم ہوگیا۔ موت اِسی کاؤنٹ ڈاؤن کی تکمیل ہے۔

لوگ اپنے یومِ پیدائش کو ہیپی برتھ ڈے(happy birthday) کے طورپر مناتے ہیں، لیکن حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے دیکھیے تو معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ ہر نئی سال گرہ دراصل اِس بات کی یاد دہانی ہے کہ موت یا یوم الحساب کا وقت اور زیادہ قریب آچکا، آخرت کی تیاری کا ایک اور سال کم ہوگیا۔

موت کا ایک پہلو یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا سے چلا گیا۔ موت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آدمی اپنی تمناؤں کی تکمیل کے بغیر مرجائے۔ یہ اِس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے تمناؤں کی تکمیل کی دنیا نہ تھی۔ تمناؤں کی تکمیل کی دنیا صرف اگلی دنیا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اِس اشارے کو سمجھے اور موجودہ دنیا کی زندگی کو تیاری کا مرحلہ سمجھ کر اپنے آپ کو اگلی دنیا کے قابل بنائے۔

زندگی عمل کا وقفہ ہے اور موت خدا کی عدالت میں پیشی کا وقت۔ یہ ہر انسان کے لیے بے حد سنگین معاملہ ہے۔ دانش مند وہ ہے جو اِس معاملے کو سمجھے اور اس کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بنائے۔