← back to shukr · Al-Risala February 2008

ذاتی دفاع، قومی دفاع

Al-Risala February 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - February 2008
  2. اختیارِ اَیسر— ایک سنّت
  3. معرفتِ دین، احکامِ دین
  4. ارتقا کے تین درجے
  5. سب کچھ خدا کا عطیہ
  6. ففٹی ففٹی کا معاملہ
  7. جنت کی قیمت
  8. تقلید اور اجتہاد
  9. چند مثالی خواتین
  10. ماڈل کون
  11. ذاتی دفاع، قومی دفاع
  12. موت ایک رِمائنڈر
  13. شکر ایک قربانی کا عمل
  14. صحبت کا اثر
  15. ایک مشکل، دوآسانی
  16. حد سے تجاوز نہ کرنا
  17. عقل مند انسان
  18. جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے
  19. قانونِ فطرت کو جانیے
  20. پیچھے کی سیٹ
  21. عظمتِ خداوندی کا اعتراف
  22. خبرنامہ اسلامی مرکز— 182

ذاتی دفاع، قومی دفاع

حملے کے وقت اپنا دفاع کرنا، ایک جائز حق تسلیم کیاجاتاہے۔ لیکن حملے کی دو قسمیں ہیں، اور اِس اعتبار سے دفاع کی دو قسمیں بنتی ہیں— ذاتی دفاع (self defence) اور قومی دفاع (national defence) ۔ دونوں قسم کے حملے کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے، اِس بنا پر دونوں کے لیے دفاع کا حکم بھی الگ ہے۔

ذاتی دفاع وہ ہے جب کہ کسی ایک شخص پردوسرے شخص کی طرف سے حملہ کیاگیا ہو، یا اس کا مال چھیننے کی کوشش کی جائے۔ ایسے موقع پر فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کے لیے حملہ آور سے لڑے۔ یہ ایک جائز لڑائی ہے۔ اِسی قسم کی لڑائی کے بارے میں حدیث میںآیا ہے کہ: مَن قُتل دون مالہ فہو شہید (صحیح البخاری، کتاب المظالم؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان)original + quote

دوسری صورت وہ ہے جب کہ ایک ملک کی فوج دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہوجائے اور وہ اس پر حملہ کردے۔ ایسے موقع پر ملک کو بچانے کے لیے لڑنا مسلّمہ طورپر جائز ہے، اِسی قسم کی جارحیت کے خلاف لڑائی کو قومی دفاع کہاجاتا ہے۔

قومی دفاع مکمل طورپر قائم شدہ ریاست کا ایک حق ہے۔ مگر قومی دفاع صرف ریاست کی طرف سے کیاجائے گا، غیر حکومتی عوام کو یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود تنظیمیں بنا کر حملہ آور کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔ اگر حکومتِ وقت، عوام کو پکارے تو وہ پکار کے مطابق، دفاع کی مہم میںشریک ہوسکتے ہیں، ورنہ جہاں تک ذمّے داری کا سوال ہے، صرف قائم شدہ ریاست ہی ایسے موقع پر دفاعی جنگ کی خدمت انجام دے گی۔ اسلامی فقہ میں اِسی مسئلے کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الرّحیل للإمام۔original + quote

اِس فرق کو نہ جاننے کی صورت میں ایسا ہوگا کہ غیر حکومتی تنظیمیں ،یا غیر حکومتی افراددفاع کے نام پر جنگ چھیڑ دیں گے اور اس کو جائز جنگ سمجھیں گے، حالاں کہ یقینی طورپر وہ ایک ناجائز جنگ ہوگی۔ وہ ایک ایسی جنگ ہوگی جس میں قربانیوں کے باوجود لڑنے والے کو خدا کا انعام حاصل نہیںہوگا۔