Al-Risala February 2008

ماڈل کون

Al-Risala February 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - February 2008
  2. اختیارِ اَیسر— ایک سنّت
  3. معرفتِ دین، احکامِ دین
  4. ارتقا کے تین درجے
  5. سب کچھ خدا کا عطیہ
  6. ففٹی ففٹی کا معاملہ
  7. جنت کی قیمت
  8. تقلید اور اجتہاد
  9. چند مثالی خواتین
  10. ماڈل کون
  11. ذاتی دفاع، قومی دفاع
  12. موت ایک رِمائنڈر
  13. شکر ایک قربانی کا عمل
  14. صحبت کا اثر
  15. ایک مشکل، دوآسانی
  16. حد سے تجاوز نہ کرنا
  17. عقل مند انسان
  18. جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے
  19. قانونِ فطرت کو جانیے
  20. پیچھے کی سیٹ
  21. عظمتِ خداوندی کا اعتراف
  22. خبرنامہ اسلامی مرکز— 182

ماڈل کون

قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اسلام میں چار ماڈل ہیں— رسول، اصحابِ رسول، خلفائِ راشدین اور محدّثین۔ قرآن میںارشاد ہوا ہے کہ: لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ (الأحزاب: 21 ) اِس سے معلوم ہوا کہ دعوتی عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصحابِ رسول کو قرآن میںانصارُ اللہ (الصّف: 14 ) کہاگیا ہے۔ ’انصار اللہ‘ میںمکہ کے اہلِ ایمان اور مدینہ کے اہلِ ایمان دونوں شامل ہیں۔ اِس طرح اصحابِ رسول، نصرتِ خداوندی کا ماڈل ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: علیکم بسنّتی، وسنّۃ الخلفاء الراشدین المہدیّین (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126 )۔ اِس سے معلوم ہوا کہ حکم رانی کے لیے خلفائِ راشدین ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔original + quote

اِسی طرح حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: العلماء وَرَثۃ الأنبیاء (البخاری، کتاب العلم) اِس حدیث کے مطابق، امت کے علما خدمتِ دین کا ماڈل ہیں۔ علما کے اِس طبقے میں سب سے پہلے محدثین کانام آتا ہے۔ محدثین کی حیثیت معیاری علما کی ہے۔ محدثین، امتِ مسلمہ کے اولین علما ہیں۔ اِس اعتبار سے محدثین بعد کے تمام علما کے لیے واحد ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔original + quote

تاریخ بتاتی ہے کہ علمائِ محدثین کا طریقہ یہ تھا کہ انھوںنے اپنے آپ کو غیر سیاسی دائرے میں خدمتِ دین کے لیے وقف کردیا۔ محدثین کا زمانہ عبّاسی سلطنت کازمانہ ہے۔ اُس زمانے میں حکم رانوں کے اندر وہ تمام بگاڑ آچکے تھے، جو بعد کے حکم رانوںمیں نظر آتے ہیں۔ لیکن محدثین نے وقت کے سیاسی بگاڑ سے مکمل اعراض کرتے ہوئے اپنے آپ کو دینی خدمت کے میدان میں مشغول رکھا، انھوںنے سیاسی بگاڑ کے مسئلے سے مکمل اعراض کیا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ علمائِ حق کون ہیں، اور علمائِ سُوء کون۔ علمائِ حق وہ ہیں جو سختی سے محدثین کے ماڈل پر قائم رہیں، علمائِ سُوء وہ ہیں جو اِس ماڈل سے انحراف (deviation) کریں اور سیاسی اصلاح کے نام پر حکم رانوں سے ٹکراؤ شروع کردیں۔