Al-Risala December 2020

معرفت کی پہچان

Al-Risala December 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - December 2020
  2. قرآن میں تدبر
  3. شعورِ فطرت، وجودِخدا
  4. ہر چیز عارضی
  5. جنت کا تعارف
  6. دورِ زوال کا ظاہرہ
  7. سکنڈری رول
  8. حج کا فائدہ
  9. ذکر ِ کثیر
  10. بولنے پر کنٹرول
  11. مذہبی آزادی کا دور
  12. مطالعہ قرآن کی اہمیت
  13. بعد کے زمانے کا فتنہ
  14. شیطان کا پردہ
  15. قیامت کی ایک نشانی
  16. بعثت ِ نبوی اور قیامت
  17. معرفت کی پہچان
  18. انوکھی تخلیق
  19. قرآن کے انگریزی تراجم
  20. فکری انقلاب کی ضرورت
  21. بابری مسجد کا مسئلہ
  22. غیر دعوتی ذہن
  23. جذباتی قیادت
  24. نظریۂ ارتقاء پر شبہات
  25. خاتمۂ تاریخ کا الارم
  26. قیامت قریب آگئی
  27. سننے کی عادت ڈالیے
  28. نادانی کی چھلانگ
  29. خودکشی حرام کیوں
  30. ڈکشنری کافی نہیں
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز— 207

معرفت کی پہچان

ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر 2010 میں 12 صفحات پر مشتمل ایک طویل مقالہ چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: معرفت —مقصدِ انسانیت۔ اس کو پڑھ کر ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کا یہ مضمون مجھ کو بہت پسند آیا۔ اب یہ سوال ہے کہ معرفت کی پہچان کیا ہے، یعنی کوئی شخص کیسے یہ سمجھے کہ اس کو وہ چیز حاصل ہوئی ہے جس کو دین میں معرفت کہا جاتا ہے۔unverified

میں نے کہا کہ قرآن میںاس کی پہچان بتا دی گئی ہے، اور وہ ذکر کثیر (33: 41) ہے، یعنی بہت زیادہ خدا کو یاد کرنا۔ معرفت دراصل رب العالمین کی ڈسکوری ہے۔ جب رب العالمین کی ڈسکوری (دریافت) کسی کو معرفت کے درجے میں حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اس کے اندر ایک گہرا ذہنی انقلاب آجاتا ہے۔ اب خدا ہی اس کی سوچ کا مرکز ومحور بن جاتا ہے۔ ایسا انسانصبح وشام خدا کو یاد کرتا ہے، وہ ہر لمحہ اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ یہی اس کے وجود کی سب سے زیادہ نمایاں پہچان بن جاتی ہے۔original + quote

یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی شخص کو اگر کوئی ایسی چیز مل جائے جس کو وہ بہتبڑی چیز سمجھتا ہو تو وہ خود اپنے فطری تقاضے کے تحت اس کا بہت زیادہ چرچا کرتا ہے۔ اس کو اُس چیز کی یاد میںاتنی لذت ملتی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ اُسی کے بارے میں سوچتا اور بولتا رہے۔

یہی معاملہ خداوند عالم کی معرفت کا ہے۔ جب کسی شخص کو دریافت کے درجے میں اللہ کی معرفت ہوجائے تو یہ معرفت اس کے ذہن پر چھا جاتی ہے۔ اپنے فطری تقاضے کے تحت، وہ اُسی کے بارے میں سوچتا ہے، اسی کے بارے میں بولتا ہے، حتی کہ اپنی تنہائیوں میں وہ اسی کے تصور میں غرق رہتا ہے۔ اس کا ہر تجربہ اس کے لیے خدا کی معرفت میں ڈھل جاتاہے۔ جب کسی انسان کا یہ حال ہوجائے تو یہ اِس بات کی پہچان ہے کہ اس کو وہ ربانی رزق عطا ہوا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔