Al-Risala December 2020

خودکشی حرام کیوں

Al-Risala December 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - December 2020
  2. قرآن میں تدبر
  3. شعورِ فطرت، وجودِخدا
  4. ہر چیز عارضی
  5. جنت کا تعارف
  6. دورِ زوال کا ظاہرہ
  7. سکنڈری رول
  8. حج کا فائدہ
  9. ذکر ِ کثیر
  10. بولنے پر کنٹرول
  11. مذہبی آزادی کا دور
  12. مطالعہ قرآن کی اہمیت
  13. بعد کے زمانے کا فتنہ
  14. شیطان کا پردہ
  15. قیامت کی ایک نشانی
  16. بعثت ِ نبوی اور قیامت
  17. معرفت کی پہچان
  18. انوکھی تخلیق
  19. قرآن کے انگریزی تراجم
  20. فکری انقلاب کی ضرورت
  21. بابری مسجد کا مسئلہ
  22. غیر دعوتی ذہن
  23. جذباتی قیادت
  24. نظریۂ ارتقاء پر شبہات
  25. خاتمۂ تاریخ کا الارم
  26. قیامت قریب آگئی
  27. سننے کی عادت ڈالیے
  28. نادانی کی چھلانگ
  29. خودکشی حرام کیوں
  30. ڈکشنری کافی نہیں
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز— 207

خودکشی حرام کیوں

یکم اکتوبر 2009 کا واقعہ ہے۔ تھنّہ منڈی (جموں وکشمیر) کے علاقے میں ایک گاؤں کے اندر ایک واقعہ ہوا۔ ایک ملٹنٹ کمانڈر اپنے دو ساتھیوں کے ہم راہ رات کے وقت ایک گھر میں داخل ہوا۔ اِن لوگوں نے گھر کے مرد اور عورت کو اتنا زیادہ مارا کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ اُن کو شک تھا کہ یہ لوگ مخبری کا کام کرتے ہیں۔ ان کی 18 سالہ لڑکی رخسانہ اُس وقت گھر کے اندر موجود تھی۔ وہ اِس منظر کو دیکھ نہ سکی۔ اس نے فوراً ایک کلہاڑی لے کر پہلے ملٹنٹ کمانڈر کو مار کر گرادیا۔ اس کے بعد تیزی سے اس کی گن چھین کر اُسی گن سے اس کے اوپر کئی فائر کیے۔ ملٹنٹ کمانڈر اسی وقت ہلاک ہوگیا اور اس کے دونوںساتھی اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

اِس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ انسانی دماغ کے اندر غیر معمولی توانائی موجود ہے، عام حالات میں وہ غیر متحرک رہتی ہے، لیکن جب کوئی شدید جھٹکا لگتا ہے تو دماغ کے اندر موجود یہ توانائی فی الفور جاگ اٹھتی ہے اور ایک لمحے کے اندر آدمی کو ہیرو بنادیتی ہے۔

مذکورہ لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اس کے والدین کے ساتھ جو ہولناک معاملہ پیش آیا، اس نے اس کے دماغ کے بند خانوں کو کھول دیا۔ ایک لمحے کے اندر اُس نے ناقابلِ تسخیر پلاننگ کی، چناں چہ اس نے پہلے کلہاڑی کے ذریعے کمانڈر کو مغلوب کیا اس کے بعد بجلی جیسی تیزی کے ساتھ کمانڈر کی گن کو چھینا اور فی الفور گن چلا کر اس کا خاتمہ کردیا۔

اِس موقع پر لڑکی اگر خودکشی کر لیتی تو وہ اِس بہادرانہ کارنامے کو انجام دینے سے محروم رہ جاتی۔ خود کشی کو اسلامی شریعت میں اِس لیے حرام کیا گیا ہے، تاکہ انسان کی زندگی کو بچایا جائے اور ا س کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ زندہ رہ کر مستقبل میںکوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے:

It is to save a life, so that he may play a greater role in future.