Al-Risala December 2019

دنیا کی مصیبت

Al-Risala December 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. الرسالہ - December 2019
  2. اللہ کی معرفت
  3. انسان کی تخلیق
  4. اعترافِ خطا
  5. شکر میں جینا سیکھیے
  6. دنیا کی مصیبت
  7. دو واقعات
  8. رسول اللہ کی سنت
  9. حدیثِ تجدید
  10. مشن کا مستقبل
  11. مضاہاۃ اغیار
  12. اعلیٰ انسان
  13. اصلاح کا آغاز
  14. رد عمل، منصوبہ بندی
  15. اسلامی طرزِ فکر
  16. اسلام دورِ جدید میں
  17. دعوتِ عام کی ذمہ داری
  18. قتال کا معاملہ
  19. تحریر کی ایک صفت
  20. آزمائش کس لیے
  21. عقیدہ اور بین اقوامی معاملات
  22. اسلوبِ کلام
  23. مدعیانہ زبان، علمی زبان
  24. ادبی انقلاب
  25. ایک خط
  26. سوال و جواب
  27. خبرنامہ اسلامی مرکز- 270

دنیا کی مصیبت

قرآن ذکر کی کتاب ہے۔ قرآن کا مقصد انسان کو خالق کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میںقرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (42:30)۔ یعنی تم پر کوئی سختی آئے ، وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور وہ درگزر کرتا ہے بہت سی چیزوں سے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبت کا کوئی تجربہ جو آدمی کو پیش آتا ہے، وہ آدمی کے اپنے ہی کیے ہوئے کا نتیجہ ہوتا ہے، کسی دوسرے انسان کے ظلم کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ تاہم کچھ مصیبتیں واقع ہونے سے پہلے قانونِ فطرت کے تحت ٹال دی جاتی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آدمی پر کوئی مصیبت پڑے تو اس کا سارا فوکس خود اپنی ہی غلطی کو تلاش کرنے پر مرتکز ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اس کے اپنے سوا کوئی اور اس مصیبت کا سبب بطور واقعہ ہے ہی نہیں۔original + quote

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدمی اگر اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دے، تو وہ بے بنیاد الزام ہوگا، کیوں کہ کوئی دوسرا موجود ہی نہیں، جس نے وہ مصیبت آپ پر ڈالی ہے۔انسان پر کوئی دنیوی مصیبت پڑے، تو اس کا سارا دھیان خوداپنی کوتاہی کو تلاش کرنے پر لگانا چاہیے،نہ کہ کسی دوسرے کے ظلم کو دریافت کرنا۔ معاملات کو اپنی ذات کے اعتبار سے سوچا جائے، تو خود احتسابی پیدا ہوتی ہے، اور جب معاملات کو دوسرے کی نسبت سے سوچا جائے، تو شکایت او ر نفرت کا جذبہ ابھر تا ہے۔ خود احتسابی اصلاح ہے، او ر شکایت صرف بے فائدہ رد عمل۔

مصیبت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تجربہ (experience) ہے۔ مصیبت کو جب صرف مصیبت سمجھا جائے، تو بے نتیجہ افتاد ہوگی۔ لیکن جب مصیبت کو تجربہ بنادیا جائے، تو مصیبت آدمی کے لیے سبق کا ذریعہ بن جائے گی۔ ہر مصیبت میں ایک سبق موجود ہوتا ہے، اس سبق کو دریافت کیجیے۔ اس کے بعد کوئی مصیبت مصیبت نہ رہے گی۔