Al-Risala December 2017

ایمانی کیفیات

Al-Risala December 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - December 2017
  2. زوج یا ہیبیٹاٹ
  3. امید کا سر چشمہ
  4. ایک حدیث
  5. عالی شان مسجدیں
  6. ہر حال میں خیر
  7. ایمانی کیفیات
  8. مثل قرآن
  9. نیچر ورشپ
  10. ایک سنتِّ رسول
  11. جامع تعبیرِِ تاریخ
  12. منسوخ، موقوف
  13. رسول، صحابی، کافر
  14. رسول اللہ کا کارنامہ
  15. رے آف ہوپ
  16. صبر کی عظمت
  17. اجتہاد کا فقدان
  18. رسول اور اصحابِ رسول
  19. معاونِ اسلام تہذیب
  20. تردیدی لٹریچر
  21. دنیا کی تخلیق
  22. تاریخ کاسفر
  23. تعارفی ماڈل
  24. تصور دین
  25. نظریاتی صحبت
  26. سب سے بڑی قربانی
  27. ردّ عمل نہیں
  28. کامیابی کا اصول
  29. ذہن کا متحرک ہونا
  30. ذہنی ارتقا کا معیار
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 256

ایمانی کیفیات

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عرض علی ربی لیجعل لی بطحاء مکة ذہبا. فقلت: لا، یا رب ولکن أشبع یوما وأجوع یوما، أو نحو ذلک، فإذا جعت تضرعت إلیک وذکرتک، وإذا شبعت حمدتک وشکرتک(مسند احمد، حدیث نمبر 22190)۔ یعنی اللہ نے مجھے یہ پیشکش کی کہ تمہارے لیے مکہ کی وادی کو سونابنا دیا جائے۔ میںنے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتاہوں کہ میں ایک دن سیر ہوکر کھاؤں اورایک دن بھوکا رہوں۔ پھرجب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اورتجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔unverified

ایمانی کیفیات کاتعلق براہ راست طورپر حالات سے ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو اس کے لحاظ سے مومن کے لیے ایمانی کیفیات کا سرمایہ موجود رہتا ہے۔ جس طرح احوال کی بہت سی قسمیں ہیں اسی طرح ایمانی کیفیات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں، اور ہر قسم میںاُس کے مطابق، آدمی کے اندر ایمانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔موجودہ دنیا میں آدمی کو امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہاں ہر عورت اور مرد کے ساتھ طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ایسا اسی لیے ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنی جانچ پرپورا اُترا اور کون اس میںناکام ہوگیا۔original + quote

آرام کی حالت ہو یا تکلیف کی حالت ہو، دونوں حالتیں اضافی ہیں۔ دونوں حالتوں میںاصل اہمیت یہ ہے کہ اُس وقت کسی عورت یا مرد سے جومطلوب رویہ درکار تھا، اس کا ثبوت اُس نے دیا یا نہیں دیا۔ اصل اہمیت حالات کے مقابلہ میںردعمل کی ہے، نہ کہ خود حالات کی۔یہ حقیقت جس عورت اور مرد پر واضح ہوجائے، اُس کا حال یہ ہوجائے گا کہ اُس کی نظر آرام اور تکلیف پر نہ ہوگی بلکہ اس بات پر ہوگی کہ ملے ہوئے حالات میں اس نے کس قسم کے رد عمل کا ثبوت دیا۔ شکر کا یا ناشکری کا، صبر کا یا بے صبری کا۔ ایسے لوگ ہر حال میں اپنا احتساب کریںگے، نہ کہ خارجی حالات کا شکوہ کرتے رہیں۔