← back to shukr · Al-Risala december 2016

عیب پوشی

Al-Risala december 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - december 2016
  2. دین کی حقیقت
  3. فیصلہ کی بنیاد
  4. انسان کی تخلیق
  5. حق کی آواز کو دبانا
  6. عیب پوشی
  7. اصلاحِ امت
  8. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  9. جنت، جہنم
  10. دعوتی منصوبہ
  11. بچوں کی تربیت
  12. فقہی زبان، نفسیاتی زبان
  13. استدراکات عائشہ
  14. پسند، ناپسند
  15. شادی شدہ زندگی
  16. شکایت نہیں
  17. زوجین کا تعلق
  18. ربانی پرسنالٹی
  19. علمی سفر
  20. جنت سے محرومی
  21. قومی مزاج، اسلامی مزاج
  22. بابری مسجد کا سبق
  23. ایک تقابلی مثال
  24. نصرت الٰہی کا قانون
  25. طلاق کا مسئلہ
  26. شباب کا زمانہ
  27. متوازن شخصیت
  28. انسان کی خصوصیت
  29. حقیقت کا اعتراف
  30. حساسیت
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز— — 247

عیب پوشی

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من ستر مسلما سترہ اللہ فی الدنیا والآخرة(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر2544)۔ یعنی جس نے کسی مسلم کے عیب کو چھپایا تو اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا، دنیا میںاور آخرت میں۔ اس حدیث میں اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ کسی عیب کو اس کی بدنامی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس کواس انسان کی امیج بگاڑنے کے لیے غیر متعلق لوگوں سےبیان کیا جائے۔مگر جہاں تک اصلاح کا تعلق ہے۔ وہ ہر مومن کا فریضہ ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: المؤمن مرآة المؤمن (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4918)۔یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہوتا ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کے عیب کو چھپادیا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیب کو خود عیب والے شخص سے ہمدردی کے انداز میں بتایا جائے۔ آدمی کی امیج کو بگاڑنے کے لیے غیر متعلق لوگوں سے اس کو بیان کرنا ایک ناجائز فعل ہے۔ اگر آپ کو کسی شخص کا عیب معلوم ہو تو آپ کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے۔ یا تو اس کو اپنے دل میں رکھیں، کسی سے اس کو بیان نہ کریں، یا متعلق شخص سے ملیں اور ہمدردی اور اصلاح کے جذبے کے تحت اس کو بتائیں۔ یہ طریقہ سماج کے اندر تعمیری ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ یہ کریں کہ دوسرے آدمی کے عیب کو کرید کر معلوم کریں اور پھر اس کو اِدھر اُدھر بیان کریں تو یہ قرآن کے الفاظ میں اشاعت فاحشہ (النور: 19) ہے۔ اشاعت فاحشہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو موجودہ زمانے میں کردار کشی (character assassination)کہا جاتا ہے۔ اگر آدمی کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ دلیل کی زبان میں اس کا جواب دے سکتا ہے۔ لیکن شخصی عیب کو لے کر لوگوں میں اس کو بدنام کرنا ، اس کی سماجی تصویر کو بگاڑنا، منافقت کی پہچان ہے۔original + quote