← back to shukr · Al-Risala December 2011

اہلِ جنت کے دو گروہ

Al-Risala December 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. الرسالہ - December 2011
  2. اہلِ جنت کے دو گروہ
  3. جنت کا سودا
  4. خدا اور بندہ
  5. قابلِ رشک افراد
  6. فہرستِ آرزو
  7. جنت کا تصور
  8. فرد، ریاست
  9. قرآن مین
  10. اعلیٰ شکر
  11. امیج کا مسئلہ
  12. مذہب اور عقلیات
  13. ّ جنت : ایک آفاقی تصور
  14. اعتماد کی اہمیت
  15. تجارت کا اصول
  16. اچانک ترقی، تدریجی ترقی
  17. ترجیح کا مسئلہ
  18. سوال وجواب
  19. خبرنامہ اسلامی مرکز— 214

اہلِ جنت کے دو گروہ

قرآن کی سورہ الواقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جنت کے دو بڑے طبقے ہوں گے۔ ایک، السابقون (سبقت کرنے والے) اور دوسرے، اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) پہلے گروہ کے لیے آخرت میں شاہانہ انعامات ہیں، اور دوسرے گروہ کے لیے عام انعامات (56: 10-27) ۔original + quote

درجہ اول اور درجہ دوم میں، یہ فرق کس بنیاد پر ہوگا۔ قرآن کے مطابق، اس کی وجہ فتح (57: 10) ہے۔ جو لوگ فتح سے پہلے کے دور میں حق کو مانیں اور اس کا ساتھ دیں، وہ السابقون کا درجہ پائیں گے۔ اور جو لوگ فتح کے بعد کے دور میں حق کو قبول کریں اور اس کے ساتھی بنیں، وہ اصحاب الیمین کے گروہ میں جگہ پائیں گے۔ یہ محض زمانے کا فرق نہیں، بلکہ نوعیتِ ایمان کا فرق ہے۔original + quote

حق جب ظاہر ہوتا ہے تو ابتداء ً وہ مجرّد صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک ایسی نظری حقیقت کی ہوتی ہے جس کی پشت پر دلائل کی طاقت کے سوا کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔ بعد کے زمانے میں جب حق کی دعوت فتح و غلبہ کے مرحلے میں داخل ہوجاتی ہے تو اُس وقت حق کی حیثیت صرف نظری صداقت کی نہیں ہوتی، اب ہر آنکھ والے کو حق ایک ٹھوس واقعہ کی صورت میں دکھائی دینے لگتا ہے۔

پہلے دور میں حق کو لفظی دلیل سے پہچاننا تھا، دوسرے دور میں حق کی اہمیت کو منوانے کے لیے کھلے ہوئے واقعات موجود ہوتے ہیں۔ پہلے دور میں حق کو مانتے ہی آدمی اپنے ماحول کے اندر اجنبی بن جاتا تھا، دوسرے دور میں حق کے ساتھ وابستہ ہونا آدمی کو عزت اور مقبولیت کا مقام دیتا ہے۔ پہلے دور میں حق کا ساتھ دینے والا صرف کھوتا ہے، دوسرے دور میں حق کا ساتھ مزید پانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پہلے دور میں بنیاد کے نیچے دفن ہونا پڑا تھا، دوسرے دور میں گنبد کی بلندیاں مل جاتی ہیں جن کے اوپر آدمی کھڑا ہوسکے۔ معرفت کا یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر پہلے مرحلے میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجۂ اول کا مقام ہے اور دوسرے مرحلے میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجۂ ثانی کا مقام۔