Al-Risala December 2008

جنت کی تلاش

Al-Risala December 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - December 2008
  2. عید ِ اضحی کا پیغام
  3. صبح کی تلاوت
  4. سیروسیاحت
  5. دعوت، تذکیر
  6. گمان سے بچنا
  7. انسان کی تلاش
  8. مغز اور چھلکا
  9. کبر ِ خفی کا نقصان
  10. خواہش پرستی، یا اصول پسندی
  11. کتابِ تلاوت، یا کتاب ِاطاعت
  12. انسانی تلاش کا جواب
  13. اسلام کیا ہے
  14. ایک سنگین مغالطہ
  15. ذہن سازی
  16. حد کے اندر رہئے
  17. فخر سے غرورتک
  18. جنت کی تلاش
  19. تمکین فی الارض کا معاملہ
  20. امر ِ موعود، امر ِمقصود
  21. دعوہ ایکٹوزم، پولٹکل اسٹیٹس کو ازم
  22. سیاسی اقتدار کی حیثیت
  23. ِختم فتنہ کا دور
  24. معیاری فرد، معیاری سماج
  25. سیاست کی دو قسم
  26. کم زور دفاع
  27. جموں وکشمیر کا مسئلہ
  28. سنتِ یوسفی
  29. بے فائدہ جنگ
  30. آزادی خیر ِاعلیٰ
  31. بے اطمینانی کا سبب
  32. بحران کا مسئلہ
  33. تعمیر کی طاقت
  34. ذہنی ارتکاز کی اہمیت
  35. خود ساختہ معیار
  36. بے مسئلہ انسان
  37. سوال وجواب
  38. خبرنامہ اسلامی مرکز— 190

جنت کی تلاش

ہر آدمی کے ذہن میںایک خوب صورت دنیا بسی ہوئی ہے، ایک ایسی دنیا جو کامل ہو، جو معیاری ہو، جہاں اس کی تمام آرزوئیں پوری ہوسکیں۔ یہی ذہنی تصور ہر آدمی کے لیے اس کے عمل کا سب سے بڑا محرک ہے۔ ہر عورت اور مرد اس کو حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی پوری زندگی اور اپنی ساری طاقت اِس کے راستے میں لگا دیتے ہیں، لیکن آخرمیں یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی مطلوب دنیا کو نہ پاسکا۔ ہر آدمی اپنی زندگی اعلیٰ حوصلے کے ساتھ شروع کرتا ہے، لیکن ہر آدمی اِس احساس کے ساتھ مرجاتا ہے کہ وہ ساری کوشش کے باوجوداپنی مطلوب دنیا کو پانے میں ناکام رہا۔

یہی پوری انسانیت کی تاریخ ہے۔ اِس میں کسی عورت یا کسی مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ یہ انسانیت کا سب سے بڑا سوال ہے۔ کیوںایسا ہے کہ لوگ امیدوں اور حوصلوں کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں، لیکن وہ محرومی کے احساسات کو لے کرمرجاتے ہیں۔

اِس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں جو خوب صورت دنیا بسی ہوئی ہے، وہ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، جنت کی دنیا ہے۔ اور جنت کسی کو موت کے بعد آنے والے مرحلۂ حیات میں ملے گی، نہ کہ موت سے پہلے والے مرحلۂ حیات میں۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی مطلوب جنت کو موجودہ دنیا ہی میں پالے، مگر جنت کا حصول موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔

اِس معاملے میں انسان اور جنت کی مثال مچھلی اورپانی جیسی ہے۔ مچھلی کو سکون صرف پانی کے اندر ملتا ہے، پانی کے باہر نہیں۔ اِسی طرح انسان کو صرف جنت میں سکون ملے گا، جنت کے باہر اس کو سکون، یا فل فل مینٹ (fulfilment) ملنے والا نہیں۔

جنت کی تلاش دراصل مستقبل کی تلاش کا دوسرا نام ہے، اور مستقبل صرف مستقبل میںملتا ہے، وہ کسی کو حال میںملنے والا نہیں۔انسان کو اگر اِس حقیقت کی دریافت ہوجائے تو وہ موجودہ دنیا کو مطلوب جنت کی تیاری کی جگہ سمجھے گا، نہ کہ خود مطلوب جنت کو پانے کی جگہ۔