← back to shukr · Al-Risala August 2016

دینی مدارس

Al-Risala August 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - August 2016
  2. اللہ کے بندے
  3. خدا کی رہنمائی
  4. محبت کا جذبہ
  5. نفس کا شر کیا ہے
  6. اعلاء کلمۃ الاسلام
  7. حکیمانہ تربیت
  8. تاریخ کا نیا دور
  9. ایک اجتماعی اصول
  10. مومن کی صفات
  11. ماحی کا مطلب
  12. مشن اور تاریخ
  13. فرشتوں پر عقیدہ
  14. دعوتی مشن
  15. دعوت عام، اصلاح امت
  16. پیغامِ کشمیر
  17. حق کی پکار
  18. موت کی یاد
  19. دنیا اور آخرت
  20. ڈرو اس سے جو وقت ہےآنے والا
  21. کلام کا فتنہ
  22. دینی مدارس
  23. اینگر انرجی کا استعمال
  24. سوال و جواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز— 244

دینی مدارس

ایک صاحب جو خود دینی مدرسہ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ دینی مدارس میں علم نبوت تو ہے، مگر وہاں نور نبوت نہیں ۔ میں نے کہا کہ کوئی دینی مدرسہ آپ کو صرف علم دین دے سکتا ہے۔ وہ چیز جس کو آپ نورِ نبوت کہتے ہیں، وہ معرفت کی چیز ہے۔ اور معرفت ایک ایسا علم ہے جو خود اپنی دریافت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ کوئی نصاب یا کوئی دینی ادارہ آپ کو معرفت نہیں دے سکتا۔original + quote

میں نے کہا کہ موجودہ دینی مدارس کی اصل کمی وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں۔ بلکہ اصل کمی یہ ہے کہ ان مدارس میں کھلا پن (openness) موجود نہیں ہے۔ اس بنا پر طلبہ کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) اور معرفت یا آپ کے الفاظ میں نورِ نبوت پیدا نہیں ہوتی۔ معرفت تخلیقی فکر کا نتیجہ ہے۔ بند ماحول میں کبھی وہ چیز نہیں پیدا ہوسکتی جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔

مدرسے کے نصاب کے ذریعے ایک طالب علم متون (texts) کو پڑھتا ہے۔ مگر کھلاپن (openness) طالب علم کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نصاب کی کتابوں کے باہر جو علمی ذخیرہ ہے، اس سے بھی فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنے اندر علمی گہرائی پیدا کرے۔ وہ وسعت نظر کا حامل بنے۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ مدرسے کی حدود سے باہر جو وسیع تر دنیا ہے، اس سے واقفیت حاصل کرے۔ وہ کتابوں کے دائرے سے باہر انسانوں کے دائرے میں داخل ہوجائے۔

یہ ضروری ہے کہ طالب علم اپنے موضوع کے متون سے واقف ہو۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ طالب علم اپنے زمانے کو جانے۔وہ زندگی کے وسیع تر دائرے سے باخبر ہو۔ یہ چیز صرف خارجی مطالعہ سے حاصل ہوسکتی ہے۔ خارجی مطالعہ سے مراد صرف کتابی مطالعہ نہیں ہے، بلکہ دیگر اہل علم سے تبادلۂ خیال کے ذریعے اپنے ذہنی افق کو وسیع کرنا بھی اس میں شامل ہے۔یعنی دینی موضوعات کے علاوہ سیکولر موضوعات سے بقدر ضرورت آشنا ہونا۔