Al-Risala August 2015

فکر کی تشکیل

Al-Risala August 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - August 2015
  2. معرفت کا رزق
  3. جنت کی دنیا
  4. کائناتی عبادت
  5. تدبر کی اہمیت
  6. موت کے بعد
  7. پیغمبر کی حیثیت
  8. نتیجہ ایک اشارۂ ربانی
  9. فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن
  10. شرحِ صدر کیا ہے
  11. تربیت کا ٹکنکل طریقہ
  12. صبر واعراض کا اصول
  13. توحید اور عدل
  14. زمین میں خلافت
  15. ٹیم کی تربیت
  16. دعوت کی ذمے داری
  17. فطرت کا ایک قانون
  18. مدعو فرینڈلی روش
  19. فکر کی تشکیل
  20. اسلام اور دورِ جدید
  21. متبادل کو جانیے
  22. زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں
  23. خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

فکر کی تشکیل

ایک شاعر نے لکھا:

ہے داد کے قابل میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جدا یاد

تجریدِ تصور کا مطلب ہے فکری یکسوئی(detached thinking)۔ یعنی غیر متعلق باتوں سے اپنے کو الگ کرکے صرف مطلوب بات پر دھیان دینا۔ یہ انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ صفت جس طرح دنیا کے معاملے میں مطلوب ہے، اسی طرح وہ دین کے معاملے میںبھی صحتِ فکر کے لیے مطلوب ہے۔ جو شخص اس صفت کا حامل ہو ، اس کے اندر وہ چیز پائی جائے گی جس کو صحتِ فکر کہا جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ معاشرہ میں جس بات کا چرچا ہو، لوگ اسی کو لے کر اظہارِ رائے کرنے لگتے ہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر متاثر ذہن بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں غزوات پیش آئے۔ اس لیے معاشرے میںغزوات کا چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ اس کے بعد جب ماس کنورژن (mass conversion) ہوا تو لوگ دینی مسائل جاننے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے میں مسائل کا چرچا کرنے لگا۔ چناں چہ فقہ کی کتابیں مسائل کے پیٹرن میں لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد سیاسی حکومتوں کا دور شروع ہوا تومعاشرے میں سیاست کا چرچا ہونے لگا۔ اب تاریخ کی کتابیں سیاسی پیٹرن پر لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد جب نوآبادیات کا دور آیا تو مسلمانوں کے اندر قابض طاقتوں کے خلاف چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب رد عمل یا منفی سوچ کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ میڈیا ہاٹ نیوز (hot news) کی انڈسٹری ہے۔ اس لیے اب ہر مجلس میں اور ہر اجتماع میں یہی پیٹرن رائج ہوگیا ہے۔unverified

ایسی حالت میں کسی مومن کے اندر صحیح اسلامی فکر کا بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کے اندر تجریدی تصور کی صلاحیت ہو۔ وہ گردو پیش کے چرچا سے اوپر اٹھ کر خود اپنی سوچ کے تحت اپنی رائے بنائے۔ وہ اپنے اندر، غیر متاثر ذہن کی تشکیل کرے۔