Al-Risala August 2013

کامیاب زندگی کا راز

Al-Risala August 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - August 2013
  2. لعلہم یرشدون
  3. خالص اللہ کے لیےعمل
  4. سورہ العصر
  5. حبطِ اعمال
  6. انسان کی محرومی
  7. فہمِ قرآن— ایک مطالعہ
  8. اندھا اور بہرا رد عمل
  9. مجھ کو قرآن نہیں ملا
  10. دعوت، اجتماعیت
  11. فکری مستویٰ کے مطابق خطاب
  12. دریافت کی عظمت
  13. کامیاب زندگی کا راز
  14. مواقع ختم نہیں ہوتے
  15. غلطی کا اعتراف
  16. سوال وجواب

کامیاب زندگی کا راز

مشہور سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955 ) نےکہا تھا کہ —انسانی زندگی بائیسکل چلانے کی مانند ہے- اپنا توازن برقرار رکھو اور تم محفوظ طورپر اپنی منزل پر پہنچ جاؤگے:other source

Life is like driving a bicycle. Maintain your balance and you will safely reach your destination.

یہ قول بہت با معنى ہے- اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو دوطرفہ تقاضوں کے درمیان عمل کرنا ہوتاہے- ایک طرف، اس کا اپنا ارادہ اور دوسری طرف، خارجی حالات-

موجودہ دنیا میں کسی کا میابی کے حصول کے لیے دونوں تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے- اگر ارادہ ہو، لیکن خارجی حالات کی موافقت موجود نہ ہو تو کامیابی ممکن نہیں-

اِسی طرح اگر خارجی حالات کی موافقت ہو، لیکن ارادہ موجود نہ ہو، تب بھی کامیابی ناممکن ہوجائے گی-آدمی کو چاہئے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کرکے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے-وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے- اِس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے-آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے- آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اِس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہوجاتاہے- اِس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اِس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں-

توازن بلاشبہہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میںتوازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا- نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آئڈیل ہونا چاہئے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹکل بن جانا چاہیے-