Al-Risala April 2019

سیکولر معرفت، ربانی معرفت

Al-Risala April 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - April 2019
  2. حظِّ عظیم
  3. میں خدا کو پانا چاہتا ہوں
  4. خوراک ایک معجزہ
  5. انسان کے لیے سبق
  6. سیکولر معرفت، ربانی معرفت
  7. اللہ کے حوالےکرنا
  8. حجت کا قانون
  9. لو پروفائل میں کام کرنا
  10. فارم ، اسپرٹ
  11. پیغمبر ِ اسلام — استثنائی شخصیت
  12. پیغمبر ِ انقلاب
  13. عقل کا مسئلہ
  14. اسلام دورِ جدید میں
  15. خبرنامہ اسلامی مرکز- 267
  16. ایک ضروری اعلان

سیکولر معرفت، ربانی معرفت

امریکا کے مشہور مشنری بلی گراہم (1918-2018) نے لکھا ہےکہ ایک بار امریکا کے ایک مشہور سیاست داں نے اس کو لکھا کہ وہ فوری طور پر اس سے ملے ۔ جب بلی گراہم اس سے ملا، تو دونوں ایک کمرے میں اکٹھا ہوئے۔ اس وقت سیاست داں نے بلی گراہم سے کہا:other source

You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. (The Secret of Happiness, by Billy Graham, p. 2)other source

یہ موت کے بارے میں ایک ایسا قول ہے، جس کو موت کی سیکولر معرفت کہا جاسکتا ہے۔ دوسرا واقعہ جو موت کی ربانی معرفت کا واقعہ ہے، وہ ایک حدیث سے اس طرح معلوم ہوتا ہے: أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَہُوَ فِی المَوْتِ، فَقَالَ:کَیْفَ تَجِدُکَ؟ ، قَالَ: وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ، إِنِّی أَرْجُو اللَّہَ، وَإِنِّی أَخَافُ ذُنُوبِی، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا یَجْتَمِعَانِ فِی قَلْبِ عَبْدٍ فِی مِثْلِ ہَذَا المَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاہُ اللَّہُ مَا یَرْجُو وَآمَنَہُ مِمَّا یَخَافُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 983)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھا۔ آپ نے پوچھا: تم اپنے کو کیسا پاتے ہو۔ اس نے کہا: خدا کی قسم، اےاللہ کے رسول ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، آپ نے کہا: کسی بھی بندے کے دل میں اس قسم کے موقع پر یہ دونوں باتیں جمع ہوں ، تو اللہ ضرور اس کو وہ عطا کرے گا، جس کی وہ امید کرتا ہے، اور اس کو امن دے گا، جس سے وہ خوف کھاتا ہے۔original + quote

موت ہر انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ سیکولر انسان موت کو زندگی کے خاتمے کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے برعکس، ربانی انسان موت پر اس یقینی لمحے کے طور پر دیکھتا ہے، جب کہ بندے کی ملاقات اس کے رب سے ہوگی۔ یہ لمحہ اس کے لیے بیک وقت دو کیفیات کا لمحہ ہوتا ہے— ایک طرف اللہ کی رحمت، اور دوسری طرف اللہ کا خوف۔