← back to shukr · Al-Risala April 2019

خوراک ایک معجزہ

Al-Risala April 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - April 2019
  2. حظِّ عظیم
  3. میں خدا کو پانا چاہتا ہوں
  4. خوراک ایک معجزہ
  5. انسان کے لیے سبق
  6. سیکولر معرفت، ربانی معرفت
  7. اللہ کے حوالےکرنا
  8. حجت کا قانون
  9. لو پروفائل میں کام کرنا
  10. فارم ، اسپرٹ
  11. پیغمبر ِ اسلام — استثنائی شخصیت
  12. پیغمبر ِ انقلاب
  13. عقل کا مسئلہ
  14. اسلام دورِ جدید میں
  15. خبرنامہ اسلامی مرکز- 267
  16. ایک ضروری اعلان

خوراک ایک معجزہ

برٹش شاعر والٹر ڈی لا مئر (Walter de la Mare [1873-1956]) کا ایک شعر ہے۔ وہ کہتا ہے — یہ بڑی عجیب بات کہ مس ٹی (انسان) جو کچھ کھاتا ہے، وہ اس کے اندر داخل ہو کر اس کا جز بن جاتا ہے:original + quote

It's a very odd thing -

As odd can be-

That whatever Miss T eats ,

Turns into Miss T.

یہ بات بلاشبہ بہت ہی زیادہ عجیب ہے کہ انسان کی خوراک، خواہ وہ زمینی خوراک ہو، یا حیوانی خوراک اس کے پیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ ایک بے حد پیچیدہ نظام اس کو ہضم (digest) کرتا ہے۔ انسان کے جسم میں دو سو سے زیادہ قسم کے خلیات (cells) ہیں۔ یہ سیل جسم کے مختلف حصوں کا پارٹ بنتے ہیں۔ یہ سیل برابر بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کا جسم انھیں سیل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ پیدائش سے موت تک انسان کے جسم کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ یہ ایک بے حد عجیب قسم کا جسمانی نظام ہے، جو ہر عورت اور مرد کو مفت میں حاصل رہتا ہے۔ اس کے علاوہ انسان کے وجود سے باہر کی پوری دنیا ، انسان کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا کام کرتی ہے۔

انسان کے جسم میں تقریباً اسّی آرگن ہوتے ہیں، یہ تمام آرگن انتہائی مربوط انداز میں کام کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام کام انجام دے سکے۔ مزید یہ کہ یہ تمام آرگن خود کار مشین کی طرح کام کرتے ہیں۔ انسان کے ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں، جو انسان کے جسم میں ہر وقت متحرک رہتی ہیں۔ تب انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال انجام دے سکے۔ انسان اگر اپنے وجود کے اس فطری انتظام کو لے کر سوچے تو وہ شکر کے سمندر میں غرق ہوجائے، ناشکری کا کلمہ کبھی اس کی زبان سے نہ نکلے۔