← back to shukr · Al-Risala April 2015

انسانیت کی منزل جنت

Al-Risala April 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - April 2015
  2. قرآنی انقلاب
  3. نورِ الہی کا اتمام
  4. امن کا دور
  5. جہاد بالقرآن، جہاد بالسیف
  6. اجتماعی نظام، اصلاح افراد
  7. فہم قرآن
  8. تفسیر قرآن کا ایک اصول
  9. قرآن کا ایک پہلو
  10. ذمہ داری بقدر استطاعت
  11. انسان کا مقصد
  12. تبدیلی کے دودور
  13. قرآن کا تصورِ تاریخ
  14. قرآنی طریق ِ کار
  15. انسانیت کی منزل جنت
  16. خلافت ارضی
  17. انسان کا امتحان
  18. اسلام کی تعلیمات
  19. ایک قرآنی اسلوب
  20. قوّام کا اصول
  21. عدل کا مسئلہ
  22. کلمۂ سَوا کا اصول
  23. کائناتی شخصیت
  24. نظریہ، تاریخ
  25. اسلام کے دو پہلو
  26. عالمی نشانۂ دعوت
  27. صبر کی اہمیت
  28. جنتی کام
  29. قرآن اور مثلِ قرآن
  30. دنیا ، آخرت
  31. آیت امانت

انسانیت کی منزل جنت

قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیاہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے، اور وہاں کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو ان کی زبان سے نکلے گا: وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّہِ ٱلَّذِىٓ أَذْہَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَکُورٌ(35:34) یعنی اور وہ کہیں گے، شکر ہے اﷲ کاجس نے ہم سے غم کو دور کردیا، بے شک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے-original + quote

And they will say, All praise belongs to God who has removed grief from us. Surely, our Lord is Most Forgiving, Most Appreciating.Qur'an

جنت کی یہ انوکھی صفت ہوگی کہ وہاں ہر قسم کے غم کا خاتمہ ہو جائے گا- موجودہ دنیا اگر دارالحَزن تھی تو جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو خالی از حزن (sorrow-free world) ہوگی- جنت میں نہ کوئی نفسیاتی غم ہوگا، اور نہ کوئی مادی غم-

قرآن کے مطابق موجودہ دنیا میں انسان کو ضرورت کی تمام چیزیں حاصل ہیں (14:34)- لیکن ایک چیز ایسی ہے جو موجودہ دنیا میں اس کے لازمی جز کی حیثیت سے شامل ہے، اور وہ غم (حزن) ہے-original + quote

موجودہ دنیا میں آدمی خواہ کچھ بھی حاصل کرلے لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے اس میں غم کا پہلو شامل رہتا ہے— جسمانی تکلیف، نفسیاتی پریشانی، کھونے کا اندیشہ، حادثہ، بیماری، تکان(boredom) ، تشنۂ تکمیل خواہش (unfulfilled desire)، بڑھاپا، موت، مستقبل کا اندیشہ، ملی ہوئی چیزوں کا امپرفکٹ (imperfect) ہونا، عدم یقین (uncertainty)، آدمی کی محدودیت(limitations)، نتیجہ پر کنٹرول نہ ہونا، دوسروں کا خوف، تردد (tension) ، وغیرہ-

جنت میں حزن کا نہ ہونا، ان تمام باتوں کو بتا رہا ہے، اور جو مقام ابدی طورپر حزن سے اس طرح خالی ہو، وہ بلا شبہہ انسان کی منزل ہے، اس سے کم کوئی چیز انسان کی منزل نہیںہوسکتی-