Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یہود کی ایک روش
یہود کی ایک روش کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیاہے: تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا(6:91) یعنی یہود کو جو آسمانی کتاب دی گئی تھی، اس کو انھوں نے ورق ورق کردیا- کچھ کو ظاہر کیا اور زیادہ کو ظاہر نہیں کیا-original + quote
اِس آیت میں ’قرطاس‘ سے مراد کاغذ یعنی ایک مادی چیز ہے اور جس چیز کو انھوں نے ظاہر کیا اور چھپایا، وہ ایک معنوی چیز تھی- اِس آیت میں بظاہر ایک مادی تقطیع کا ذکر ہے، لیکن اس سے مراد مادی تقطیع نہیں، بلکہ معنوی تقطیع ہے-original + quote
یہ وہ واقعہ ہے جو یہود کے دورِ زوال میں پیش آیا، وہ تقطیع (separation)یہ تھی کہ انھوں نے دینِ خداوندی کی اسپرٹ کو اس کے فارم سے جدا کردیا- ان کے علما اور مشائخ (احبار ورہبان) دینِ خداوندی کے فارم کا خوب چرچا کرتے تھے، لیکن دین ِ خداوندی کی اسپرٹ کا کوئی چرچا ان کے یہاں نہیں تھا- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین ِ خداوندی جو اصلاً مبنی بر اسپرٹ دین تھا، وہ عملاً مبنی بر فارم (form-based) دین بن گیا-
یہ جو کچھ ہوا، وہ اصلاً ’’یہودیت‘‘ کا ظاہرہ نہیں تھا، بلکہ وہ دورِ زوال کا ظاہرہ تھا- ہر امت کے ساتھ اس کے دورِ زوال میں یہی واقعہ پیش آتا ہے، حتی کہ خود امتِ مسلمہ کے ساتھ بھی-
قرآن کی اِس آیت کا شانِ نزول جاننا ہو تو آپ بائبل کا مطالعہ کیجئے- بائبل کے مطالعے سے یہ بات تفصیل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے کہ یہود نے تعلیماتِ الہیہ میں اِس قسم کی تقطیع کردی تھی- وہ دین ِخداوندی کے معنوی پہلو کو چھوڑے ہوئے تھے اور دین کے ظاہری پہلو کو اِس طرح بیان کرتے تھے جیسے کہ وہی اصل دین ہے-
یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں اِن الفاظ میں بیان کیا تھا: اے اندھے راہ بتانے والو، تم مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو(Matthew 22: 1 ) -original + quote