Al-Risala april 2009

اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور

Al-Risala april 2009 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (36 chapters)
  1. الرسالہ - april 2009
  2. اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور
  3. سجدۂ قربت
  4. عجلت پسندی
  5. انسان ایک استثنائی مخلوق
  6. رعایت ایک سنتِ رسول
  7. سب سے بڑا فتنہ
  8. اسبابِ شکر کو دریافت کیجیے
  9. قادرِ مطلق، عاجز ِ مطلق
  10. قرآن: تلاشِ فطرت کا جواب
  11. تحفہ کلچر
  12. دعوت اور اقدام کا فرق
  13. خدا کا وجود
  14. تعمیر ِ دنیا، تعمیر ِ شخصیت
  15. یہ بھی جھوٹ ہے
  16. موت کے بعد
  17. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  18. مسلمان کی حیثیت
  19. بااصول زندگی
  20. جنت کا مستحق کون
  21. پہلی واپسی،دوسری واپسی
  22. بلندفکری
  23. سب سے بڑا مسئلہ
  24. منطقی طرزِ استدلال
  25. خدا اورانسان
  26. اہتزاز یا مشقت
  27. قسمت ِ انسانی
  28. معذوری کے باوجود
  29. خوشی صرف آخرت میں
  30. ذہین آدمی کا فتنہ
  31. شادی شدہ زندگی کے مسائل
  32. رکاوٹ کے بغیر
  33. عادت اور ضرورت
  34. بل تو اپنا بل
  35. سوال وجواب
  36. خبر نامہ اسلامی مرکز— 193

اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور

قرآن کی سورہ نمبر 26 میںارشاد ہوا ہے کہ آخرت میںجنت میں داخلے کا مستحق وہ قرار پائے گا جو قلبِ سلیم کے ساـتھ وہاں پہنچے: إلاّ مَن أتی اللہ بقلبٍ سلیم (الشعراء:89 ) ۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ: إلاّ مَن أتی اللہ بأعمالٍ کثیرۃ (مگر وہ شخص جو بہت زیادہ اعمال لے کر آئے)۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جنت کی قیمت حقیقتاً کمیاتی عمل نہیں ہے، بلکہ کیفیاتی عمل ہے، یعنی وہ عمل جس کا تعلق قلبِ سلیم سے ہو۔original + quote

اِس آیت میں قلب سے مراد معروف معنوں میں دل نہیں ہے، بلکہ شعور ہے۔ سلیم یا سلامت کا مطلب ہوتا ہے— بَری ہونا۔ ضحّاک بن مُزاحم تابعی (وفات: 723 ء)نے قلبِ سلیم کی تفسیر قلبِ خالص سے کی ہے (تفسیر القرطبی)۔ قلبِ سلیم سے مراد ہے— آلائش سے پاک قلب (pure heart)، یعنی جو شخص دنیا میں اپنی فطرت کو آلائش سے بچائے اور صحیح فطرت کے ساتھ آخرت میں پہنچے۔ اِس کو دوسرے لفظوں میں ڈی کنڈیشنڈروح (de-conditioned soul) بھی کہہ سکتے ہیں۔ قلب کا لفظ یہاں اپنے لٹرری معنیٰ میں ہے۔ ادبی استعمالات میں قلب کا لفظ مرکز ِ شعور کے معنیٰ میں رائج ہوگیا ہے۔ اور قرآن انسانی زبان میں نازل ہوا ہے، اِسی مفہوم کے اعتبار سے قرآن میں بھی اِس لفظ کو استعمال کیاگیا ہے۔ حقیقی معنویت کے اعتبار سے، اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اپنے شعور کی اصلاح کرے، جواپنی فطرت کو بعد کی آلائشوں سے پاک کرے، جو ماحول کی کنڈیشننگ کوتوڑکر اپنے آپ کو ایک ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ (de-conditioned mind) بنائے۔ ایسے ہی انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوگی، ایسا ہی انسان صراطِ مستقیم پر چل سکے گا۔original + quote

اصل یہ ہے کہ ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے اُس کی فطرت گرد آلود ہوتی رہتی ہے۔ اِن خارجی اثرات سے پاک کرکے فطرت کواس کی اصل حالت پر قائم کرنے کا نام محاسبہیا ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہی بے لاگ محاسبہ اِس بات کا ضامن ہے کہ آدمی صحیح فطرت یا قلبِ سلیم کا حامل ہو۔ اور جو لوگ ایسا کرسکیں، وہی وہ لوگ ہیں جو قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچیں گے اور آخرت میں جنت کی ابدی دنیا میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔