Al Islam

دین کی تکمیل کیا

Al Islam — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (14 chapters)
  1. صراط مستقیم
  2. انفرادی صراط مستقیم
  3. اجتماعی صراط مستقیم
  4. نصرت کا اصول
  5. اسلام کا طریقِ دعوت
  6. دین اور شریعت کا فرق
  7. دین کی تکمیل کیا
  8. امیر حمدانی کی مثال
  9. کشمیر میں اسلام—
  10. خلاصہ
  11. سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے
  12. دعوت کی زبان
  13. عربوں کی صلاحیت
  14. دعوت کی ہماگیری

ہے؟ موجودہ زمانے میں مکمل اسلام انقلاب کے علمبرداروں اور غیر مکمل حاملینِ دین کے درمیان مختلف ملکوں میں جو تصادم جاری ہے، اس کی بنیاد دراصل "دینِ کامل" کا غلط نظریہ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک کامل، یعنی تمدنی قوانین کے اعتبار سے کامل، دین ہے۔ اس لیے دین کو قائم کرنے کا مطلب لازماً یہی ہے کہ اس کو ایک کامل تمدنی نظام کی حیثیت سے برپا کیا جائے۔

اگر "کامل دین" کا یہ مطلب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ناقص دین تھا، کیونکہ معلوم ہے کہ ان کو تمدنی ضوابط و قوانین سرے سے دیے نہیں گئے۔ اور اسی طرح دوسرے اکثر انبیاء کو، حالانکہ قرآن میں صراحت ہے کہ تم کو بھی وہی دین دیا گیا ہے جو دوسرے نبیوں کو دیا گیا تھا، اور اسی دین کو تمہیں قائم کرنا ہے۔ سورہ شوریٰ، آیت 13: اصل یہ ہے کہ دین نام ہے پورے معنوں میں موحد بننے کا۔ دین کا کامل ہونا دراصل توحید کا کامل ہونا ہے۔

کوئی شخص جتنا زیادہ اپنے رب کو پا لے، اتنا ہی اس نے اپنے دین کو کامل کیا۔ اور جس نے اپنے رب کو جتنا کم پایا، اتنا ہی اس کا دین ناقص رہا۔ قانونی دفعات خواہ کتنی ہی زیادہ لکھ دی جائیں، پھر بھی وہ دین کو مکمل نہیں کریں گی۔ مثال کے طور پر، قرآن میں اگر 7ویں صدی عیسوی کی دنیا سے متعلق سارے احکام و ضوابط بالتفصیل درج کر دیے جاتے، جب بھی بہت سی قانونی باتیں لکھنے سے رہ جاتیں۔

جیسے سمندری قوانین، خلائی ضوابط وغیرہ۔ کیونکہ ان مسائل کا اس وقت کوئی وجود ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دینِ کامل کا یہ مطلب لیا جائے تو اسلام بھی دینِ کامل نظر نہ آئے گا۔ p. 69