2022 November

بات کرنے کا طریقہ

2022 November — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - November 2022
  2. علم سے آغاز
  3. دنیا ایک سفر
  4. کائونٹ ڈائون ہورہا ہے
  5. اہل کتاب سے استفادہ
  6. مطالعۂ حدیث
  7. دعا کی حقیقت
  8. مکمل اسلام، ربانی اسلام
  9. اہل جنت
  10. عمل کی دعوت
  11. بڑھاپے کا تجربہ
  12. چیلنج کی صورتِ حال
  13. بائی ٹائم اسٹریٹجی
  14. بات کرنے کا طریقہ
  15. ڈائری 1986
  16. ایگو کو مینج کرنا
  17. گناہ خدا سے قربت کا ذریعہ
  18. مولانا کے بعد
  19. تعارفِ کتب
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز- 278

بات کرنے کا طریقہ

گفتگو کرنے کا ایک صحیح طریقہ ہے، اور ایک بے فائدہ طریقہ۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ کی بات سن کر سننے والے کو اس سے کوئی ٹیک اوے (takeaway)ملے، یعنی کوئی واضح بات جس کو لے کر وہ آپ کی مجلس سے اپنے گھر جائے۔ ایسی گفتگو صحیح گفتگو ہے۔یعنی جب سننے والے سے پوچھا جائے کہ تمھارے لیے اس کا ٹیک اوے کیا تھا۔اس کے جواب میں اگر سننےوالے نے آپ کی گفتگو سے کوئی نئی بات پائی ہو، اور وہ کوئی واضح اور متعین بات کہتا ہےتو آپ کی گفتگو کا طریقہ صحیح تھا۔ ٹیک اوے کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں آپ کو ذہنی غذا (intellectual food) ملتی ہے۔

اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ آپ نے لمبی بات کہی یا لمبی تقریر کی۔ لیکن جب سننے والے سے پوچھا جائے کہ تمھیں اس بات یا تقریر سے کیا ٹیک اوے ملا۔ اور وہ اس کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے تو ایسی گفتگو کا نہ سننے والے کو کوئی فائدہ ، اور نہ بولنے والے کو۔

صحیح گفتگو وہ ہے، جس سے سننے والے کو ٹیک اوے ملے۔ جس کو سن کر آدمی کا ذہن کھلے ، جس کو سن کر آدمی کو کوئی واضح پوائنٹ حاصل ہو، جس کو سن کر آدمی جب لوٹے تو ایک متعین بات سمجھ میں آئی ہو۔ اس کوئی نئی بات دریافت ہوئی ہو۔ صحیح گفتگو وہ ہے جو کہنے والے کی طرف سے سوچ سمجھ کر کہنے کے ہم معنی ہو، اور سننے والے کے لیے وہ کسی نئی بات کی دریافت بن جائے۔ جس گفتگو میں یہ صفت نہ پائی جائے، وہ لَا خَیْرَ فِی کَثِیرٍ مِنْ نَجْوَاہُمْ (4:114) کا مصداق ہے۔ یعنی ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔original + quote

جن لوگوں کے اندر سنجیدگی نہ پائی جاتی ہو وہ الفاظ بولتےہیں، لیکن ان کے الفاظ گہری معنویت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے کلام میں وضوح (clarity) نہیں ہوتا۔ ایسے کلام سے لوگوں کو کوئی ٹیک اوے (takeaway) نہیں ملتا۔سچا انسان وہ ہے، جو کسی سے گفتگو کے وقت یہ محسوس کرے کہ اس کی گفتگوزیادہ مؤثر گفتگو نہیں ہے، وہ بے فائدہ کلام ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ بے فائدہ بحث و مباحثہ سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ لایعنی باتوں سے پرہیز کرے،اور اپنے آپ کو غور وفکر میں لگائے۔