In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…is negative, while a duty-based ideology is positive. A rights-based ideology leads to social anarchy, for it is bound to create different rival classes, while a duty-based ideology leads to harmony, solidarity, peace and compassion.
This same principle is laid down in a saying of the Prophet: “Give to others what others want from you and ask for your rights from God.” (Sahih al-Bukhari, 7052) This means that you should fulfil your duty towards others and achieve what you want to achieve by your own efforts. This is the only feasible formula in this world. According to the creation plan of God, this world is based on challenge and competition. No one is going to give you what you want: you have to work hard for everything on your own. That is the law of nature. And there can be no change in the laws laid down by the Creator.
This world is based on the principle of give and take, so you have to give something to others before you can expect anything from them.
…Islam places the onus on the individual to fulfil one’s duties, irrespective of what others do. The Prophet laid the foundation of a duty-conscious society. This is mentioned in the following Hadith of the Prophet, in which he says:
“A believer should be duty-conscious, and as far as his rights are concerned, he should ask for them from God.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 7052)
This Hadith emphasizes the importance of a mother’s role in her children’s lives by training them in duty consciousness and in leading a principled life.
…بھی رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ادارہ کی ذمے داریاں سنبھالنے میں ان کا وقت گذر جاتا ہے۔ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آئی ہےکہ علما\ئے کو صرف خروج علی الحاکم کے مسائل معلوم ہیں، خروج علی مینجمنٹ کے مسائل ان کومعلوم نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے ، ا س کا انھیں علم نہیں ۔ہونا یہ چاہیے تھا کہ علماء اپنی علمی ذمے داریاں ادا کریں ،اور ادارے کی انتظامیہ، وغیرہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں تو معاملہ ٹھیک رہے گا۔ اس معاملے میں علماء کے لیےوہ حدیث رسو ل واحد راستہ ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کو حق ان کادو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبارِ نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظرانداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ آج علماء کرام دلوں…
…کےلیے صرف ایک آپشن ہے۔ وہ یہ کہ ایک مسلم دعوت الی اللہ کو اپنا کنسرن (concern) بنائے، اور دوسری تمام چیزوں کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردے۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس معاملے میں کوئی عذر (excuse) حقیقی عذر (genuine excuse) نہیں۔
عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں دعوت الی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کو اپنا کنسرن بناتے ہیں، اور عذر(excuse) کے طو رپر کسی دنیوی اصول کا حوالہ دیتے ہیں۔مثلاً حق خود ارادیت (self determination) ، انسانی حقوق (human rights)، وغیرہ۔ مگر یہ تمام حوالے درست نہیں۔ ان معاملات میں اسلام کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ ادا کروان کو ان کا حق ، اورمانگو اپنا حق اللہ سے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں مومن کی منصوبہ بندی یک طرفہ طور پر ذاتی ذمے داری کے اصول پر ہے، دوسروں سے حقوق طلبی کے اصول پر نہیں۔ اس دنیا میں مومن کو صرف اپنی ذمے داری کی ادائیگی پر دھیان دینا ہے، مومن کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی…
…اِس ایک کام میں لگائیں۔ اور قیامت تک نسل در نسل یہی کام انجام دیتے رہیں۔ پیغمبر نے اپنے زمانے میں اِس اصول کے مطابق، اپنی دعوتی ذمّے داری ادا کی اور آپ کے بعد آپ کی امت کو ہر دور میںاِسی اصول کا اتباع کرتے ہوئے دعوتی کام انجام دینا ہے۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس معاملے میں اپنی امت کو واضح ہدایات دی ہیں۔ خاص طورپر آپ نے امت کو شدت کے ساتھ تلقین فرمائی کہ تم لوگ سیاسی نزاعات سے دور رہو۔ کیوں کہ سیاسی نزاعات میں الجھنا صرف اِس قیمت پر ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام رُک جائے گا۔ اِس بارے میں کتبِ احادیث میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے روایتیں موجود ہیں، اِن روایتوں کا خلاصہ اس حدیثِ رسول میں پایا جاتا ہے:أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کا حق ان کو ادا کرو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے حقوق بلا اختلاف ادا کرتے رہو، اور خدا کی طرف سے تم پر جو ذمّے داری ڈالی گئی ہے، اُس کو پوری یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے رہو، اور اپنے حقوق کے معاملے میں ٹکراؤ کے راستے پر جانے کے بجائے خدا سے دعا کرو۔ اِس…
…ہیں:تَسْمَعُ وَتُطِیعُ لِلْأَمِیرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَہْرُکَ، وَأُخِذَ مَالُکَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847)۔ یعنی آپ نے کہا کہ سنو اور اطاعت کرو، خواہ وہ تمھاری پیٹھ پر مارے، اور تمھارا مال چھین لے، سنو اور اطاعت کرو۔
ایک دوسری روایت یہ ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّہِ، قَالَ:قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِی أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْکِرُونَہَا، قَالُوا:فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہم لوگوں سے کہا کہ تم میرے بعد عنقریب ترجیح (preference)دیکھوگے، اور کچھ ایسے امور جن کو تم ناپسند کرو گے، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول، آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے کہا: ان کو ان کا حق ادا کرو، اور تم اپنا حق اللہ سے مانگو۔
ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:مَنْ رَأَى مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًا یَکْرَہُہُ فَلْیَصْبِرْ عَلَیْہِ فَإِنَّہُ مَنْ فَارَقَ الجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ، إِلَّا مَاتَ مِیتَةً جَاہِلِیَّةً (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7054)۔ یعنی آپ نے کہا کہ جو اپنے…
…الی اللہ کا کام جاری رکھا۔ اس اصول کے معاملے میں آپ اس آخری حد تک پہنچے کہ جب آپ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ نے تقریباً سولہ مہینے تک یہود کے قبلے کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ تاکہ دعوت الی اللہ کے کام کا تسلسل اسمود (smooth) طور پر جاری رہے۔
اہلِ اسلام کے لیے نہ کوئی اقلیتی فقہ ہے، اور نہ کوئی اکثریتی فقہ۔ اہلِ اسلام کو ہر جگہ یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی اور غیر سیاسی نزاع سے پر ہیز کریں۔ وہ امن (peace) کو اصل اجتماعی اصول قرار دے کر معتدل انداز میں زندگی گزاریں۔ وہ عقیدہ اور عبادت،اور اخلاق کے آزاد دائرے میں اپنے آپ کو اسلام کی روش پر قائم کریں، اور وقت کے نظام سے ٹکراؤ کو اپنے لیے شجرِ ممنوعہ سمجھتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052) کے فارمولے پر عمل کریں۔
…بھی رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ادارہ کی ذمے داریاں سنبھالنے میں ان کا وقت گذر جاتا ہے۔ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آئی ہےکہ علما\ئے کو صرف خروج علی الحاکم کے مسائل معلوم ہیں، خروج علی مینجمنٹ کے مسائل ان کومعلوم نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے ، ا س کا انھیں علم نہیں ۔ہونا یہ چاہیے تھا کہ علماء اپنی علمی ذمے داریاں ادا کریں ،اور ادارے کی انتظامیہ، وغیرہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں تو معاملہ ٹھیک رہے گا۔ اس معاملے میں علماء کے لیےوہ حدیث رسو ل واحد راستہ ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کو حق ان کادو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبارِ نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظرانداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ آج علماء کرام دلوں…
…بھی رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ادارہ کی ذمے داریاں سنبھالنے میں ان کا وقت گذر جاتا ہے۔ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آئی ہےکہ علما\ئے کو صرف خروج علی الحاکم کے مسائل معلوم ہیں، خروج علی مینجمنٹ کے مسائل ان کومعلوم نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے ، ا س کا انھیں علم نہیں ۔ہونا یہ چاہیے تھا کہ علماء اپنی علمی ذمے داریاں ادا کریں ،اور ادارے کی انتظامیہ، وغیرہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں تو معاملہ ٹھیک رہے گا۔ اس معاملے میں علماء کے لیےوہ حدیث رسو ل واحد راستہ ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کو حق ان کادو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبارِ نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظرانداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ آج علماء کرام دلوں…
In the lectures
Cited at 1955s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1998s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3144s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3723s — opens the lecture at this moment.
Cited at 582s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2281s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4425s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…غلط ہے۔ اس بنا پر اس وقت پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کی امیج کو درست کیا جائے۔ امیج کو درست کرنے کا یہ کام موثر طور پر لٹریچر کے ذریعے ہوسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے ادارہ الرسالہ نے مختلف مضامین اور کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں سے چار کتابیں یہ ہیں:
1. Quranic Wisdom. (pp. 352)
2. Islam and World Peace. (pp. 200)
…کے بغیر غور وفکر کا عمل ممکن نہیں۔ خاموشی کسی انسان کو غیرخدا سے دور، اور خدا سے قریب کردیتی ہے۔ خاموشی کسی انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پورے عالم ِ وجود سے معرفت کی غذا حاصل کرے، اُس کا عارفانہ سفر غیر منقطع طورپر (non-stop) جاری رہے۔
ایک صحابی کی مثال
مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اپنی بیماری میں روئے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اے ابوہریرہ، کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا میں تمھاری اِس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اِس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اورزادِ راہ کم…
قرآن کی ایک آیت
قرآن کی سورہ نمبر 89میں ارشاد ہوا ہے: ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا زرق اُس پر تنگ کردیتا ہے، تو…
…میں ’’خشوع‘‘ کہا گیا ہے۔ اضاعتِ صلوۃ کی پہچان یہ ہے کہ لوگ وقتی طورپر نماز کے ظاہری آداب کا تو اہتمام کرتے ہوں، لیکن عملی طورپر ان کی دلچسپیاں تمام تر مادی چیزوں سے جڑی ہوئی ہوں۔ اِسی ظاہرہ کو ’’اتباعِ شہوات‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قرآن کی ایک آیت
قرآن کی سورہ نمبر 89میں ارشاد ہوا ہے ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا زرق اُس پر تنگ کردیتا ہے، تو…
قرآن کی ایک آیت
قرآن کی سورہ نمبر 89میں ارشاد ہوا ہے: ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا زرق اُس پر تنگ کردیتا ہے، تو…
…مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو ا ور ایک ڈول پانی لا کر وہاں بہا دو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابو داؤد، مؤطا)
(Sahih al-Bukhari: 220, Sunan al-Nasai: 56, Sunan al-Tirmidhi: 147, Sunan Abi Dawud: 380, Musnad Ahmad: 10533)
دیہاتی پر اس واقعہ کا بہت اثر پڑا۔ اپنے قبیلہ میں واپس جا کر اس نے لوگوں سے پورا قصہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ حرکت کی کہ عبادت خانہ میں پیشاب کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ پر غصہ نہیں کیا۔ انھوں نے مجھے نہیں جھڑکا (مسند…