Al-Risala August 2020

قرآن کی ایک آیت

Al-Risala August 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - August 2020
  2. اضاعت ِ صلوٰۃ
  3. قرآن کی ایک آیت
  4. صادق انسان
  5. قرآن میں تدبر
  6. تزکیہ کی حقیقت
  7. تخلیقی حمد
  8. اسلامی نظریۂ جنگ
  9. مہدی یا مسیح کی پہچان
  10. انتظار کی مدت ختم
  11. طالب اور مطلوب
  12. دعوتی شعور کا فقدان
  13. عارفانہ دعاء
  14. موت، موت کی یاد
  15. کشتی ٔ نوح کی دریافت
  16. فتویٰ اور فتویٰ ایکٹوزم
  17. مسلم ملٹنسی کا مسئلہ
  18. خود کُش بم باری
  19. مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
  20. اپنی غلطیوں کو دریافت کیجئے
  21. ذہانت کا منفی پہلو
  22. مشترک خاندانی نظام
  23. وقت کی اہمیت
  24. سوال وجواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز — 204
  26. Al-Quran Mission

قرآن کی ایک آیت

قرآن کی سورہ نمبر 89میں ارشاد ہوا ہے: ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا زرق اُس پر تنگ کردیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا‘‘ (الفجر:15-16 )Qur'an

اِس آیت میں انسان کی ایک کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو شخص اپنی اِس کمزوری کو جانے اور اُس پر کنٹرول رکھے، وہ کامیاب ہوگا، اور جو شخص اپنی اِس کمزوری سے بے خبر ہو اور اُس پر کنٹرول نہ کرسکے، وہ خدا کی اِس دنیا میں ناکام ہو کر رہ جائے گا۔original + quote

دنیامیں کسی کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اُس کو کبھی زیادہ ملتا ہے اور کبھی کم۔ دونوں ہی معاملہ خدا وند ذوالجلال کے فیصلے کے تحت ہوتا ہے۔

مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب اُس کو زیادہ ملے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور اُس نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے جس کو برتر اندازہ (over-estimation) کہا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جب آدمی کو کم ملے تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ کو نظر انداز کیاگیا ہے اور پھر وہ اُس نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے جس کو کم تر اندازہ (under-estimation) کہاجاتا ہے۔

یہ دونوں ہی قسم کی نفسیات کسی شخص کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔جو آدمی اپنا زیادہ اندازہ کرلے، وہ غیر واقعی طورپر برتری کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے گا۔ اِس کے برعکس، جو شخص اپنا کم تر اندازہ کرے، وہ غیر واقعی طورپر کم تری کی نفسیات کا شکار ہوجائے گا۔

صحیح انسان وہ ہے جو اِن دونوں قسم کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قرآن میں النفس المطمئنۃ (الفجر:27 )کہاگیا ہے، یعنی ہر صورت میں یکساں حال پر قائم رہنا۔original + quote